ایک ایسا "خاندان" آئندہ نومبر کے بعد «سیاسی کچن» جسکی کمی محسوس کرے گا - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

ایک ایسا "خاندان” آئندہ نومبر کے بعد «سیاسی کچن» جسکی کمی محسوس کرے گا

انہوں نے ہی اوباما کے مشرق وسطیٰ کی سیاست کے خدوخال طئے کئے.

17-1

لندن: امير طاہرى

         ان دنوں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے اختتام کی الٹی گنتی تیزی سے جاری ہے۔ پس منظر میں المناک صورتِ حال ہے جس کی سرزمين شام شاہد ہے۔ شمالی عراق میں آفت کے آثار ہیں جس سے کئی لوگوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر شہر موصل میں داعش کے خلاف کاروائیوں میں عوامی جتھوں نے حصہ لیا تو تہران سے دو سال سے زیادہ سے منسلک «عسکری ذرائع» جسے "حزب اللہ کہا جاتا ہے اسکی ضبطی ، لبنان میں نئے صدر کے انتخاب کا فیصلہ، حوثی باغیوں نے جو کہ ایرانی امداد کی بدولت طاقتور بنے ہوئے ہیں، جنہوں نے یمن میں قانونی حیثیت کو بحال کرنے کی تمام خلیجی اور بین الاقوامی کوششوں کو مسترد کرنا یہ سب اندوہناک مسائل ہیں.

 اوباما انتظامیہ کی مشرقی پالیسیوں کی "کچن” کے افراد پر مندرجہ ذیل سطور میں ہم روشنی ڈال رہے ہیں کہ سابقہ چار سالوں میں اوباما کی اولین ترجیح ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتہ کرنا تھا۔

          گزشتہ ہفتوں کے دوران امریکی صدر باراک اوباما مسلسل انٹرویوز کے دوران تاریخ میں اپنی گزشتہ سیاسی تصویر کو چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان انٹرویوز میں بار بار ایک چیز دیکھنے کو ملی کہ اوباما کا اپنے اس ٹیم کی طرف اشارہ جسے وہ اپنے "خاندان” کا ایک حصہ شمار کرتے ہیں کہ وہ وائٹ ہاؤس سے جانے کے بعد ان کے ساتھ ہرگز نہیں رہے گی۔

          حقیقت یہ ہے کہ ہر امریکی صدر یا انیسویں صدی کے آخری نصف میں صدر یولیسیس گرانٹ کے بعد سے ہر صدر کا قابل اعتماد قریبی مشیروں کا ایک گروپ رہا ہے انکا کام صدر کو بریفنگ دینا، انکے بیان کی تصدیق کرنا، مشورہ دینا، مخالفین سے انکی حفاظت کرنا.. اور بلکہ بعض اوقات ان کے دوستوں سے بھی حفاظت کرنا بھی شامل ہے.

 عمومی طور پر یہ "خاندان” صدر کے دوست اور ان کے معاونین جو کہ انکی پیدائشی ریاست سے ان کے ہمراہ ہوتے ہیں اس گروپ میں شامل ہوتے ہیں۔ واقعی جب صدر جمی کارٹر واشنگٹن میں آئے تو اپنے ساتھ جنوبی امریکہ کی ریاست جورجیا کے دیہاتی مرکز جو کہ بڑے شہروں سے جڑا ہوا تھا وہاں سے لوگوں کا ایک گروپ لائے۔ ان میں سے ایک ہامیلٹن جورڈن جو کہ کارٹر کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے اور اپنے وقت کے وائٹ ہاؤس کے چیئرمین تھے انہوں نے اپنی یادداشت میں اقرار کیا کہ سرکاری ضیافتوں میں سے ایک ضیافت کے دوران مصری سفیر کی بیوی سے کانٹا اور چھری کا استعمال سیکھا جسکے لئے وہ انکے احسان مند ہیں.

          جب رونالڈ ریگن واشنگٹن آئے تو وہ اپنے ہمراہ اپنی ریاست کیلیفورنیا سے اپنے دوست احباب ساتھ لائے۔ خاص طور سے ریگن کے زمانے میں "حکومتی کچن” کی اصطلاح سامنے آئی اور رواج پایا، خاص طور پر صدر و ہالی ووڈ کے سابق اداکار کے ساتھ باورچی خانے کی میز پر اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا کرتے تھے جن میں انکے اپنے قریبی دوستوں کا ایک گروپ بھی شامل ہوتا۔

صدر جارج بش ریگن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صوبہ ٹیکساس کے افراد کو ساتھ لیکر آئے جسکے وہ گورنر تھے.

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>