غير معيارى فن - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

غير معيارى فن

20-2

مرزا خویلدی

قطر میں ناراضگی اور غصہ کی لہر دوڑ رہی ہے کیونکہ ایک سعودی کامیڈی اداکار نے (اسٹینڈ اپ کامیڈی پروگرام) کے ذریعہ قطر کے باشندوں کا مذاق اڑا تے ہوئے یہ کہا کہ قطر کے باشندوں کی تعداد بہت کم ہے، گزشتہ  ہفتہ میں قطر کے ایک اداکار کی بات سنی وہ ایسے مضحکہ خیز باتوں پر اپنے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے سوال کر رہے تھے کہ کیا اس قسم کا فن اس حد تک غير موزوں اور گھٹیا ہو چکا ہے؟

در حقیقیت مشکل خود فن میں نہیں ہے کیونکہ فن اچھی مہارت اور عمدہ سلیقے کے ساتھ انسان کے احساس و جذبات کے اظہار کا ترجمان ہے، وہ صرف اظہار رائے، لوگوں سے مخاطب ہونے اور ان کو خوش کرنے کا ذریعہ ہے،  اول تو یہ فن میسر آزادی کی فضا سے، پھر اداکاروں کی مہارت اور سلیقہ مندی سے اپنی طاقت حاصل کرتا ہے، اور اسٹینڈ اپ کامیڈی کوئی نیا فن نہیں ہے بلکہ اس کا آغاز اٹھارہویں صدی میں برطانیہ میں ہوا تھا پھر امریکہ منتقل ہوا، اور یہ فن موجودہ صورتحال پر براہ راست تنقید کے بجائے کامیڈی انداز میں تنقید کرنے کا بہترین اور اہم ذریعہ ہے، اسی کے ساتھ ساتھ وہ زندگی اور سیاست کی مایوسی کے احساسات کو کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، چنانچہ وہ غیر واضح سیاسی تنقید ہے، اسکی ادائیگی آسان نہیں ہے، کیونکہ وہ عوام کے ساتھ اداکاری، جواب کی قیاس آرائی اور رد عمل میں براہ راست تبادلہ اور شرکت کا طالب ہے، اس کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ دوسرے اظہار اور اداکاری کے مختلف فنون کی ہے۔

کامیڈی (مزاح) اظہار خیال کرنے اور پرامن طور پر اپنے جذبات کی ترجمانی کرنے کے سلسلے میں لوگوں کی ایک اہم ضرورت ہے، بیماریوں اور پیچیدگیوں سے پاک، عفو ودرگزر پر مبنی زندہ سماج ومعاشرے کی عکاسی ہے۔  اسی لئے لطیفہ دنیا کے لئے عوامی تہذیب وثقافت کا سفیر سمجھا جاتا ہے۔

روسی قلمکار فیوڈور دوستویفسکی کی رائے کے مطابق طنز عام متوسط عوام کی آخری پناہ گاہ ہے، چنانچہ جب بھی زندگی اور معیشت کے حالات سخت ہونگے کامیڈی کی ضرورت بڑھتی جائے گی، بالآخر ضروری ہے کہ انسان مایوسی کے ہر احساس سے نجات پا ئے،  کامیڈی کے وسائل رنج وغم کو دور کرتے ہیں، لیکن جب یہی فن حالات اور پالیسیوں پر تنقید کے بجائے لوگوں کا مذاق اڑانے اور شخصیت پر تنقید وطنز میں تبدیل ہو جائے تو وہ دوسروں کی تحقیر و تضحیک،  انکی بدگوئی،  اہانت اور جذبات کو مجروح کرنے کا آلہ بن جاتا ہے،  نتیجتاً لوگوں کو خوش کرنے اور ان کو سعادت پہونچانے کا مقصد کھو دیتا ہے.

یہاں ایک قابل تشویش مسئلہ یہ ہے کہ کومیڈی کے فن کا تقاضہ تو یہ تھا کہ وہ صاف وشفاف ماحول پیدا کرے لیکن وہ دلوں کو مکدر کرنے کے مواقع کو غنیمت سمجھنے لگا، قوموں کے درمیان قربت پیدا کرنے اور ان کے مابین اختلافات کو ختم کرنے کے بجائے دوری، اختلاف وانتشار اور دوسروں کے مقابلے میں نسل پرستی کے احساسات کے اظہار کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے، بعض لوگ جیسا کہ خلیجی ڈراموں میں ہوتا ہے، کومیڈی کو لوگوں کو حقیر دکھانے اور ان کا مذاق اڑانے میں اپنی مہارت دکھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں، بعض ڈرامے تو ایسے بھی ہیں کہ اس کا ہیرو ہمیشہ مذاق ومزاح اور دل لگی ہی کرتا رہتا ہے، ایک موٹا شخص یا پست قد شخص پورے وقت اپنے اخلاق اور اپنی شکلوں کی وجہ دوسروں کے سامنے ذلیل وخوار ہی ہوتا رہتا ہے۔ یہ کوئی فن نہیں ہے اور نہ اس کا فن سے کوئی تعلق ہے، یہ تو اس پیغام کی ناقدری ہے جس پر یہ فن قائم ہے، اور اس کے اہم خصوصیات میں سے انسان کا احترام اور بلند انسانی اور حسی خوبصورتی کو پیش کرنا ہے۔ جب ہم لوگوں کی غلطیوں پر، ان کے موقفوں اور ان کے عام حالات پر مذاقی نقد پیش کرنے میں اپنی بہادری کا مظاہرہ نہیں کر سکتے ہیں تو ہمیں ان کی توہین نہیں کرنی چاہیئے اور ان کا مذاق بھی نہیں اڑانا چاہئے اور نہ ان کے احساسات وجذبات كو مجروح کرنا چاہئے، ہمیں کسی کے معنوی یا دلی ایذاء رسانی کا سبب نہیں بننا چاہئے، لیکن کسی کو ہنسانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسرے کے حزن وغم کا سبب بن جا ئیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>