تبدیلیوں کی تہ تک پہنچنے کے لئے سعودی عرب سے متعلق مغربی کتابوں میں وسعت - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
به قلم:
کو: بدھ, 9 نومبر, 2016
0

تبدیلیوں کی تہ تک پہنچنے کے لئے سعودی عرب سے متعلق مغربی کتابوں میں وسعت

عالمی سطح پر سعودی کے ابھرتے ہوئے کردار کا تخلیقی تال میل کے کہاوتوں پر ڈھانپنا

jkjghdgherugvdfghhgbdjbuerurwuriuvj

لندن: امیر طاہری

پچھلے دنوں میں تاریخی، سیاسی اور کئی مختلف وجوہات کی بناء  پر یورپ اور امریکہ کے بہت سے قلمکاروں نے سعودی عرب اور اس کے امور سے متعلق لکھنے کو کافی اہمیت دی ہے- ان وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب ایک بہت بڑا ملک ہے اور مشرقی وسطی کے جیو نظام (سیاست پر جغرافیائی اثر) میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور پورے عالم میں احتیاطی تیل کے ذخیرے کی آماجگاہ ہے- علاوہ ازیں سعودی عرب میں رونما ہونے والی عظیم تبدیلیاں جو سنہ "2030ء” کے ویژن کی عکاسی بھی کرتی ہیں وہ بھی شامل ہے۔

علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ‎سعودی عرب کے ابھرتے ہوئے کردار اور ان کتابوں کے تیار کرنے والوں کے ساتھ ہم آہنگی ہونے کے باوجود شائع کردہ کتابوں میں سے چند ہی نے سعودی عرب کو ایسے وجود کی حیثیت سے پیش کیا ہے جس کا سمجھنا دشوار ہے یا اس کی حقیقت کو پرانی کہاوتوں کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی- جبکہ بعض دوسرے انشاء پرداز اپنے سابقہ افکار وخیالات، یا نظریاتی مقاصد یا اس ملک کے بارے میں معلومات نہ پانے کی وجہ سے اچھی طرح سمجھنے میں ناکامیاب یا گرے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مثال کے طور پر یہ کہا گیا کہ عام طور پر سعودی عرب "ایک بند معاشرہ” ہے- مگر  کیا ایک ایسے ملک کے بارے میں یہ کہنا درست ہوگا جہاں کی آبادی میں 30 ٪ لوگ تارکین وطن ہیں اور دنیا بھر کے 80 سے زائد ملکوں میں رہائش پذیر ہیں، اور ہر سال لاکھوں غیر ملکی حاجی اس کی مقدس سرزمین کا رخ کرتے رہتے ہیں؟

یہ دعوی کرنا کہ سعودی عرب غیر ملکی علمائے کرام اور بیرونی میڈیا کے لئے بند معاشرہ ہے- یہ محض ایک ایسا دعوی ہے جس کا دفاع کرنا مشکل ہے۔ ان نئی کتابوں میں سے ایک کتاب کا نام "سعودی عرب منتقلی کے مرحلہ میں: سماجی، سیاسی، اقتصادی اور دینی تبدیلی سے متعلق ویژن” ہے اس کتاب کے مصنف برنارڈ ہیکل، محرر ٹوماس ہیغامر اور سٹیفان لاکروا ہیں۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو قارئ کو ماضی بعید سے حال میں براہ راست لے آتی ہے۔ مصنف نے سعودی عرب میں ترقی اور نمو کے مختلف پہلوؤں سے نمٹنے کے لئے کتاب کی پندرہ (15) فصلیں خاص کی ہیں۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>