شیخ الازہر: میں نے گروزنی کے کانفرنس میں کسی مسلک کو اہل السنت والجماعت سے خارج نہیں کیا- الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 19 نومبر, 2016
0

شیخ الازہر: میں نے گروزنی کے کانفرنس میں کسی مسلک کو اہل السنت والجماعت سے خارج نہیں کیا-

 1479484982301204200

فضيلت مآب پروفيسر ڈاکٹر احمد الطيب شيخ الازہر

"الشرق الاوسط”

قاہرہ: ولید عبد الرحمن

     فضيلت مآب پروفيسر ڈاکٹر احمد الطیب شیخ الازہر صاحب نے اس بات کی تاکید کی کہ گروزنی میں منعقدہ اہل السنت والجماعت کانفرنس کا اختتامی بیان نشر ہونے سے قبل ان کے سامنے پیش نہیں کیا گیا  اور نہ ہی کوئی ازہری وفد اس بیان کے اعلان کے وقت چیچینیا کی دار الحکومت میں موجود تھا- اس لئے  ازہر شريف اس بیان کا ذمہ دار نہیں ہے۔

       اسی طرح شيخ الازهر صاحب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی طرف سے کانفرنس میں پیش کئے گئے افتتاحیہ  کلمات میں نہ دور سے اور نہ قریب سے  کسی مسلک کو خارج اہل سنت و الجماعت کرنے یا نہ کرنے  سے متعلق کوئی اشارہ موجود نہیں ہے۔  یہ مکمل افتتاحیہ بیان توثیق شدہ اور مطبوعہ ہے جس میں امت کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے۔ حقیقت میں یہ ایسی صورتحال ہے جس کا علاج اور دوا مسلمانوں کے متحد ہونے کے  علاوہ    اور کچھ نہیں ہے، اس زیارت کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو متحد کرنا تھا نہ کہ ایک جماعت کو قریب کرنا اور دوسری جماعت کو دور کرنا تھا-

          اور واضح رہے کہ اس سے پہلے ازہر نے اگست کے ماہ میں منعقدہ کانفرنس کے اس اختتامی بیان سے اپنی براءت کا اعلان کیا تھا اور اس اختتامی بیان کی وجہ سے ایک بڑے پیمانہ پر تنقیدیں شروع ہو گئیں تھیں۔

     فضيلت مآب طیب صاحب  نے مزید فرمايا کہ ازہر اکیسویں صدی میں اپنے شیخ کی زبانی  سے اس بات کا اعادہ کرتا ہے  کہ” اے اہل سلف آپ جملہ اہل السنت والجماعت میں سے  ہیں” اور یہ مفہوم اس عمومیت کے ساتھ مسلمانوں کے علماء، فقہاء ، محدثین، متکلمین ، صوفیائے کرام، زبان اور نحو کے ماہرین سب پر مشتمل ہے ۔

      عزت مآب شیخ الازہر صاحب نے مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی فرمايا کہ "میں یہ کہ کر سلفی حضرات سے کوئی مجاملت نہیں کر رہا ہوں” میں نے چیچینیا کی زیارت یہ کہنے کے لئے نہیں کیا کہ اشعری اور ماتریدیہ کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور دوسرے  مسالک کا بائیکاٹ کریں کیونکہ یہ لوگ میرے مشائخ اور امام ہیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>