یمن كو طبی امدادات پہنچانے میں باغی رکاوٹ بنے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: منگل, 29 نومبر, 2016
0

یمن كو طبی امدادات پہنچانے میں باغی رکاوٹ بنے

حوثی لوگ ایران سے انسانى امدادی سامان کے ساتھ اسلحہ پانے کے بھی خواہاں: ذرائع

21

دارالحکومت صنعاء کے ایک عوامی بازار میں یمنی خرید وفروخت کرتے ہوئے (ا۔ف۔ب)

جده: اسماء الغابری

   یمن میں کئی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ  باغیوں نے ایک ہی ہفتہ میں (طبی امدادات کے) بہت ہی اہم انجکشنوں کا دو کھیپ داخل ہونے سے روک دیا اور انہیں جیبوتی واپس کردیا۔

    ذرا‏ئع نے یہ بھی ذکر کیا کہ باغیوں نے دو امدادی جہاز کو وہیں واپس جانے پر مجبور کردیا جہاں سے وہ آئے تھے- حالانکہ عربی اتحادیوں نے انسانی ہمدردی کی بنا پر اسے صنعاء ایرپورٹ پر اترنے کی اجازت دے دی تھی- جس کا اثر یہ ہوا کہ انسانی صورتحال مزید دگرگوں ہو گئی اور خاص طور پر وہاں بیماری کے شکار لوگوں کی پریشانیوں میں کافی اضافہ ہوگیا- جن علاقوں میں یہ دونوں جہاز طبی امدادات لے کر جا رہے تھے صرف اسی پر اکتفا نہیں، بلکہ وہ علاقہ جو باغیوں کے قبضہ میں ہے وہاں بھی "حدیدہ بندرگاه” کے راستے سے پہنچنے والے امدادات کو روک دیا-

      حوثی باغیوں نے کشتیوں اور جہازوں کو نیز خشکی، فضائی اور بحری غرض یہ ہے کہ کسی بھی راستے سے پہنچنے والی ہر قسم کے امدادات کو مکمل طور پر مسترد کردیا اور ان علاقوں تک نہیں پہنچنے دیا جن علاقوں میں ان کا اثر ورسوخ تھا۔ انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش اس لئے کی تاکہ وہ انسانی امدادات کے مہرے کو سیاسی اور فوجی مذاکرات میں استعمال کر سکیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح اس وقت عیاں ہو گئی جب بعض محدود ملکوں سے آنے والی امدادات کو ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے انہوں نے اسے قبول کیا۔

     ذرائع نے اس بات کی بھی تاکید کی ہے کہ حوثی باغی تشدد آمیز کارروائیاں جو کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے یمن میں انسانی صورتحال میں جو پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں اور خاص طور پر ان علاقوں میں جو ان باغیوں کے قبضے میں ہے- اس سے ان کا مقصد ہے محدود ملکوں سے مدد حاصل کرنا ہے جن میں سے ایران شامل ہے- تاکہ یہ لوگ امدادی ساز وسامان کے ساتھ ہتھیار حاصل کرسکیں- اس کے علاوہ انہیں ایک خاص قسم کی مدد بھی درکار ہے جو ان کی لڑائی کے اغراض میں کام آ سکے۔

      صنعاء انٹرنیشنل ایرپورٹ اور حدیدہ بندرگاہ  کے راستے سے پہنچنے والا بین الاقوامی امدادی سامان لینے سے انکار کرنے کا مسئلہ اس کے کچھ ہی دنوں کے بعد سامنے آیا جب اقوام متحدہ کی جانب سے صادر ایک رپورٹ میں انہیں متنبہ کیا گیا اور یمن میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے بارے میں خبردار کیا گیا- خاص طور پر ان صوبوں کے بارے میں متنبہ کیا گیا جو صوبے حوثی باغیوں کے قبضہ میں ہیں جن ميں حجہ، صعدہ اور تعز شامل ہيں۔

      ایک رپورٹ کے مطابق، حوثیوں کا یہ خطر ناک اقدام جس کا مقصد یمن میں قانونی حیثیت پر قا‍ئم شدہ حکومت کا تختہ پلٹ کر اس پر قبضہ جمانا تھا- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہزار سے زیادہ بچوں کا قتل ہوا اور لاکھوں لوگ بنیادی دیکھ بھال کی سہولیات بھی حاصل کرنے سے محروم ہیں جو ان کے سر پر موت کا بادل منڈلانے کے مترادف ہے۔

     ایک رپورٹ میں، جس کا ایک نسخہ "الشرق الاوسط” کو بھی ملا،  یہ بات سامنے آئی ہے کہ خوراک اور پانی کی فراہمی میں بتدریج کمی کی وجہ سے پندرہ لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں- وہیں دوسری جانب ہیضہ اور خسرے جیسی مہلک بیماریوں کے پھیلنے کی وجہ سے ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے لئے بھی خطرے کا باعث بن رہا ہے۔

     ایک طرف جہاں اقوام متحدہ ان بچوں کی طرف رسدی سامان اور علاج کے لئے طبی لوازمات پہنچانے کی بھر پور کوششیں کر رہا ہے وہیں پر حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کی اس کوشش کو بالائے طاق رکھ کر کارروائیوں میں مزید پیچدگی پیدا کردی ہے۔ اس کے نتیجہ میں اقوام متحدہ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ضرورت مند بچوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے وہ امدادات پہنچنا چاہیئے جو ان کی زندگی کو بچا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس بات پر کافی زور دیا ہے کہ "ان بچوں کو خطرات میں ڈالنا کسی کے بھی حق میں اچھا نہیں ہے” کیونکہ یہی بچے یمن کا مستقبل ہیں۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>