ایک طویل ہندوستانی فلم: گاندھی گیریج میں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سمیر عطاء اللہ
کو: اتوار, 1 جنوری, 2017
0

ایک طویل ہندوستانی فلم: گاندھی گیریج میں

        ونسٹن چرچل کہا کرتا تھا کہ ہندوستان اپنی مختلف زبانوں، بت پرستانہ عقائد، متعدد ادیان ومذاہب اور تہذیب وثقافت کے باوجود ایک قوم نہیں ہے مگر ہاں خط استواء کے بقدر اس کو ایک قوم مانا جا سکتا ہے۔ ایک ہندوستانی مفکر امریتا سنگھ کہتے ہیں کہ چین کے باشندے مکمل ایک صدی تک ہندوستان کو بدھسٹ ملک کے نام سے موسوم کرتے رہے ہیں۔ پچھلی صدی میں اس ملک کو گاندھی اور عدم تشدد کے فلسفہ سے جانا گیا یا دوسرے روحانی عنوانوں سے جانا گیا۔

          اخیر کار جرمن فرانسیسی چینل نے ہندوستان سے متعلق دستاویزی پروگرام کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کے ایک پروگرام کا عنوان تھا "گاندھی سے ہنسی”، اس عنوان کی تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے لیکن پھر بھی یہ حقیقت ہے ۔ اس کا مقصد دنیا کے ذہن ودماغ میں راسخ اس فقیر فلسفی کی تاریخی حیثیت کو ختم کرنا تھا کہ وہ نیم برہنہ ایک چھوٹے سے چرخے کے بازو میں بیٹھا ہے۔ اسی ایپی سوڈ میں مہاتمہ کی نصف مجسمہ کی تصویریں پیش کی گئیں ہیں جو نگاہوں اور پیروکاروں سے دور گھروں کے گیریج میں رکھی ہوئی تھیں یعنی آزادی اور خود مختاری کے اس رہنماء کے ساتھ جو کچھ ہوا وہی کچھ زبردست مظاہروں کے نتیجہ میں سوویت یونین کے زوال کے بعد لینن اور سٹالن کا ہواتھا۔

           ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ باریک مقارنہ اور موازنہ وہ ہو سکتا ہے جو چین میں ماؤ زیدونگ کے ساتھ پیش آیا، اسی وجہ سے ورثہ کو وراثت منظم طریقہ سے نہیں مل سکا لیکن یہ واضح رہے کہ رہنماء کی روح جو سب پر بھاری تھی  ایک طرح کے ریٹائر منٹ کی بنیاد پرالگ کیا گیا تھا۔ ہندوستان کی موجودہ تصویر وہ صنعتی تصویر ہے جس نے مغربی صنعت کے اہم حصوں کو خریدا ہے اور جہاں تک گاندھی کے چرخہ کی بات ہے تو وہ یقینی طور پر ایک ارب انسان کے کپڑے تیار کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ ہندوستان کی موجودہ تصویر کے ساتھ ساتھ سیاسی طبقہ میں زبردست فساد بھی ہے اور بعض کا تو یہ کہنا ہے کہ دنیا کے اندر سب سے زیادہ فساد یہیں ہیں۔ ملک کی زبردست ترقی کے باوجود بھی یہاں کے دس فیصد شہری غربت اور مفلسی سے دوچار ہیں جبکہ تین دہائی قبل اس غربت اور مفلسی کی نسبت تقریباتیس فیصد تھی۔

         ممکن ہے کہ ماضی کے سالوں میں ہونے والی شاندار جدت پسندی نے دنیا کے سب سے برے نظام کی بہت سی خرابیوں کو ختم کیا ہوگا لیکن اسی کے ساتھ ساتھ غریبی اور مالداری کے درمیان زبر دست فرق اب بھی موجود ہے۔ اسی طرح دین اور سیاست میں بھی زبردست فرق پایا جاتا ہے جبکہ ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے اور یہی وہ تن تنہا نظام ہے جس نے اختلافات کے اتھاہ سمندر کو اپنے گود میں سموئے ہوئے ہے جیسے کہ چین دنیا بھر میں اپنے تارکین وطن کی بڑی تعداد کے ذریعہ اپنی تہذیب وثقافت اور اپنا اثر ورسوخ کو وسیع کر رہا ہے لیکن ابھی ہر جگہ ہندوستانی مہاجرین غالب ہیں پسے ہوئے کارندے کے طور پر نہیں جیسے کہ وہ ماضی میں تھے بلکہ ایک علمی، تجارتی اور صنعتی طبقہ کے طور پر ہر جگہ منتشر ہیں۔ مہاجرین کی تیسری نسل کی ایک جماعت ایسی ہے کہ ان کی اولاد مغربی سماج ومعاشرہ میں نمایاں شخصیات بن کر ابھری ہیں خاص کر ریاستہائے متحدہ امریکہ میں جہاں ان کی اولاد اچھے مناصب پر یا وفاقی اداروں میں اچھے مقام  پر پہنچی ہیں مثال کے طور وہ  ارکان پارلیمنٹ  بنے ہیں یا حاکم کے عہدہ پر فائز ہوئے ہیں۔

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ ایک مصنف اور لبنانی صحافی ہیں، وہ "الاہءر" نامی اخبار اور"الاسبوع العربی"، لبنانی کے "الصیاد" نامی میگزین اور کویت کے اخبار مںن اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>