جنادریہ نامی فیسٹیول کے سال - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: جمعہ, 10 فروری, 2017
0

جنادریہ نامی فیسٹیول کے سال

مشاری الذايدی

        ان دنوں سعودیہ کی دار الحکومت ریاض میں جنادریہ نامی اکتیسواں فیسٹیول منایا جا رہا ہے یعنی اس فیسٹیول کی مدت چوتھائی صدی سے زیادہ ہو چکی ہے جس میں بہت ساری سیاسی، ثقافتی اور تراث سے متعلق سرگرمیاں پیش ہوئیں ہیں۔

        اس فیسٹیول کی بنیاد مرحوم شاہ عبد اللہ ابن عبد العزیز نے رکھی تھی اور انہوں ہی نے اس کو فروغ دیا اور اس کو ترقی دی یہاں تک کہ سعودی وراثت اور جزیرہ عرب کے ہر علاقہ کے مقامی وراثت کی خدمت کے سلسلہ میں دیگر عربی فیسٹیولوں میں اس کا شمار کیا جانے لگا۔ اسی طرح یہ ایک ایسا اسٹیج بن گیا جہاں بہت سارے افکار وخیالات، بحث ومباحثے اور تنازعات پیش کئے جانے لگے۔ اس کے علاوہ یہ اونٹ ریس کے سالانہ مقابلہ کا وقت بھی قرار دیا گیا۔ مرحوم شیخ زائد آل نہیان اور شاہ خالد کو کون بھول سکتا ہے وہ دونوں اسی موقعہ سے بہت شوق سے اس ریس میں مسلسل حصہ لیتے تھے۔

        جہاں تک بات ہے خوبصورت پینٹنگ کی تو شکار کی پینٹنگ ہوتی ہے جس میں جنگ اور فخر کے رقص کرنے والے ہوتے ہیں، شاہوں اور گداگروں کے رقص کرنے والے ہوتے ہیں۔ جنادریہ کی روح کے آواز میں شعر کی پینٹنگ ہوتی ہے، سب سے بہتر وہ ہے جس نے اپنے شعر کے ذریعہ سعودی صحراء کے بیٹے کی ثقافت اور خواب کو بیان کیا ہے یعنی خلف ابن ہذال العتیبی اللہ ان کے ساتھ عافیت کا معاملہ فرمائے۔

        اخیر میں اوپریٹا کی عظیم پیشکش ہوتی ہے جس میں سعودی کے فن اور صاحب فن کے خلاصہ کو پیش کیا جاتا ہے اور افسوس کی بات ہے کہ اس سال یہ عظیم پیشکش نہیں دکھایا گیا۔

        جنادریہ اپنے تمام مناظر، اجلاسوں اور بازاروں کے اعتبار سے سعودی، خلیجی اور عربی یادگار کی امانت دار ایک ریجسٹر ہے۔ کون شخص دوسری خلیجی جنگ کے بحث ومباحثہ اور خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ بنیاد پرست بیدار حالات کے تنازعات  کو بھول سکتا ہے؟ وہ دن تھے!

        جنادریہ کی صورت صرف یہی نہیں ہے بلکہ حقیقی معنی میں یہ ایک بازار بھی ہے۔ اس کا انتظار بہت سے پیشہ ور حضرات اور اپنے قومی ووراثتی مصنوعات کے فروخت کرنے والے کرتے ہیں اور یہاں حرکت کرنے والے بینر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ جنادریہ کے موسم میں عمر دراز عورتیں اپنے گاؤں اور دیہاتوں سے اپنی خاص مصنوعات فروخت کرنے کے لئے یہاں آتی ہیں اور یہ لوگ صرف جنادریہ کے بازاری پہلوؤں کو دیکھتے ہیں۔

         ہم قدیم عربی معنی کے اعتبار سے بازار کے سلسلہ میں گفتگو کر رہے ہیں جیسے کہ عکاز، ذی المجاز، مجنہ، دومۃ الجندل، مربد، شحر ،عدن اور صحار کے بازار ہوتے تھے۔ دیکھیں کہ عرب کیسے اپنے بازاروں کو شمال سے جنوب تک جزیرۂ عرب کے تمام جغرافیہ پر تقسیم کرتے تھے۔

        میرا خیال ہے کہ جنادریہ کی تمام فائلوں کو محفوظ رکھنا خواہ وہ تصویر ہوں یا آڈیو ہوں محققین کے لئے بہت مفید ہے اور ممکن ہے کہ بہت سے لوگ غیر یقینی طور پر حیرت کا اظہار کریں۔

خدا ہر سال جنادریہ فیسٹیول کو قائم ودائم رکھے۔

جمعہ 14 جمادی الاول 1438ہجری – 10 فروری 2017 شمارہ نمبر {13954}

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>