دین کی سمجھ، دینی ادارے اور حکومتیں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
رضوان السید
به قلم:
کو: جمعرات, 23 فروری, 2017
0

دین کی سمجھ، دینی ادارے اور حکومتیں

رضوان السید

        جتنا نئے امریکی صدر کے ذریعہ اوباما کے زمانہ میں موجود "سخت انتہاپسندی” کی اصطلاح کو بدل کر "اسلامی دہشت گردی” کی اصطلاح کے نام نے خوف زدہ کیا اتنا ہی زبانی طلاق کے سلسلہ میں ازہر شریف کے سینئر علماء کمیٹی اور صدر عبد الفتاح السیسی کے درمیان ہوئی گفت وشنید نے خوف زدہ کیا ہے۔ میں بھی ازہری ہوں اور فقہ کی سمجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ عورتوں کے حقوق کی پامالی اور سماجی فساد کو مد نظر رکھتے اگر یہ ضروری اور قانونی قرار دیا جائے کہ عقد زواج کی تمام تفصیلات حکومتوں کے پاس بھی محفوظ ہوں اور صرف عرفی عقد زواج پر اکتفا نہ کیا جائے تو یہ کیوں ممکن اور قانونی نہیں ہو سکتا کہ طلاق کا وقوع حکومتوں کے سامنے ہی ہو؟!

        میں گزشتہ سالوں میں دینی اداروں اور ان میں اصلاح کی ضرورت کے بارے میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں تاکہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو اچھے انداز میں ادا کر سکیں۔ میں نے ذمہ داری کا ایک حصہ حکومتوں کے بھی حوالہ کیا ہے کیونکہ حکومتیں اپنے نوجوانوں کے سامنے اس سلسلہ میں اپنی اہمیت کھو چکی ہیں۔ لیکن دینی ادروں کو ضروت ہے کہ وہ خود اس لائق ہوں اور دوسروں کو بھی اس لائق بنائیں اور انہیں چاہئے کہ یہ بذات خود مستقل طور پر یہ ذمہ داریاں انجام دیں تاکہ سیاسی، ثقافتی اور میڈیاء ان کو ان ذمہ داریوں کے انجام دینے پر مجبور نہ کر سکیں۔ اس طرح بڑے چیلنج مشترک ہیں لیکن باہم تعاون اور یکجہتی کی ضرورت ہے تاکہ حکومتیں اور سماج ان ماحول میں آگے بڑھتی رہیں جن ماحول میں ہم مسلمان دوسرے مذہب وملت کے مقابلہ میں زندگی گزار رہے ہیں۔

(جاری)

جمعہ 14 جمادی الاول 1438ہجری – 10 فروری 2017ء شمارہ نمبر {13954}

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>