خطے میں نفرت کی حوصلہ افزائی کون کرتا ہے؟ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
عثمان میرغنی
کو: جمعرات, 2 مارچ, 2017
0

خطے میں نفرت کی حوصلہ افزائی کون کرتا ہے؟

      گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتنیاہو نے سخت الفاظ میں کہا کہ فلسطینیوں میں نفرت بھرا کلچر قیام امن کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔ انہیں یہ دکھائی نہیں دیا کہ قبضہ(سامراج) یا آباد کاری میں توسیع یا فلسطینیوں کی توہین قیام امن کے سامنے رکاوٹ اور بحران ونفرت کے پھیلنے کا سبب ہیں، انہوں نے یہ بات نہیں کی کہ اسرائیل کی طرف سے بھی نفرت پھیلائی جا رہی ہے جب وہ فلسطینیوں اور عرب کو سانپ، قاتل اور انسانی گندگی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کی توجہ صرف فلسطینیوں کے اس رخ کی جانب رہی کہ وہ امن میں رکاوٹ ہیں، نفرت انگیز ہیں اور مسلسل تشدد اور بحران کے ذمہ دار ہیں۔

      نتنیاہو کا بیان؛ کہ فلسطینی اسکولوں میں بچپن ہی سے نفرت بھرے کلچر کی تربیت دی جاتی ہے، اسی ضمن میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں چاہئے کہ وہ اس (نفرت آمیز کلچر) سے چھٹکارا حاصل کریں اور اسرائیل جیسے "عظیم ملک” کو تسلیم کریں۔ درحقیقت یہ اپنے مہمان کے کاموں کی حوصلہ افزائی ہے اور دیگر امریکی صدور کی بہ نسبت اپنے آپ کو اسرائیل کے قریب ترین ظاہر کرنا ہے…(جاری ہے)

عثمان میرغنی

عثمان میرغنی

عثمان میرغنی معاون سابق سردبیر روزنامه شرق الاوسط است.

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>