لیبیا کے آرمی چیف کا دل جیتنے کے لئے امریکی اور روسی جدوجہد - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: اتوار, 12 مارچ, 2017
0

لیبیا کے آرمی چیف کا دل جیتنے کے لئے امریکی اور روسی جدوجہد

4

لیبیا کی دار الحکومت طرابلس میں سیف الاسلام قذافی کے محاکمہ کی ایک تصویر

قاہرہ: خالد محیود

        امریکہ اور روس کی طرف سے لیبیا میں نئی حکومت کے قیام کے لئے وہاں کے آرمی چیف خلیفہ حفتر کے مشیر کار کا دل جیتنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی سلسلہ میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ٹوماس وائلڈ ہاؤسر نے امریکی سینٹ کے سامنے جلسۂ سماعت کے دوران کہا ہے کہ اب ضرورت ہے کہ حفتر اور لیبیا کی پارلیمنٹ ایک قومی حکومت کے قیام کے سلسلہ میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔

        دوسری طرف روسی سیکورٹی "آر ایس بی” نامی کمپنی کے صدر اولیگ کرینیٹسین نے واضح انداز میں کہا ہے کہ ماسکو حفتر کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے اور لیبیا کے مشرقی علاقوں میں روس کے ریٹائرڈ فوجیوں کا وجود ایک تجارتی ترتیب ہے لیکن روس کے سیکورٹی ذرائع نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ اگر ماسکو کی موافقت نہ ہوتی تو ایسا نہیں ہوتا باوجودیکہ کہ کرینیٹسین نے کہا ہے کہ اس کی کمپنی نے روسی وزارت دفاع کے ساتھ کام نہیں کیا ہے اور انہوں نے پر زور انداز میں کہا ہے کہ ان کی کمپنی وزارت خارجہ کے ساتھ مشورہ کرتی ہے۔

اتوار 13 جمادی الثانی 1438ہجری – 12مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13984}

 

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>