انتخبات کے موقعہ پر اردوغان کا ہالینڈ کے خلاف سخت لہجہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 15 مارچ, 2017
0

انتخبات کے موقعہ پر اردوغان کا ہالینڈ کے خلاف سخت لہجہ

4

کل رجب طیب اردوغان انقرہ میں تقریر کے دوران

انقرہ: سعید عبد الرازق

        کل ترکی صدر رجب طیب اردوغان نے بدھ کے دن طے شدہ انتخبات کے بعد ہالینڈ کے خلاف سخت لہجے میں گفتگو کی اور دہشت پسند بائیں بازو کے مواقع کی طرف اشارہ کیا۔ اس موقعہ پر انہوں ایک حساس موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بوسنیا کے سریبرنیکا شہر کے اندر 1995 میں قتل عام ہوا لیکن اس موقعہ پر اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے والے یہ نام نہاد ہالینڈ کے امن وسلامتی رکھوالے اور ان کی فوج ناکام ہوئی اور وہ اس قتل عام کو روک نہ سکی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ہالینڈ اور ہالینڈیوں کو سریبرنیکا کے قتل عام کے ذریعہ جانتے ہیں اور ہم آٹھ لاکھ بوسنیا کے شہریوں کو قتل کرنے کے سلسلہ میں ان کے اخلاق وکردار کی انتہاء کو بھی جانتے ہیں۔

        فورا ہی ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹی نے سریبرنیکا کے سلسلہ میں اردوغان کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخ کا بہت ناپسندیدہ جھوٹ ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ اردوغان معاملہ کو مزید سنگین کر رہے ہیں ہم ہرگز اس حد تک نہیں اتریں گے اور یہ معاملہ تو سرے سے نا معقول ہے۔

بدھ 16 جمادی الثانی 1438ہجری – 15مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13987}

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>