شیخ الازہر کی ناراضگی کیوں؟ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: جمعہ, 24 مارچ, 2017
0

شیخ الازہر کی ناراضگی کیوں؟

مشاری الذايدی  

         اسلام کی تفسیر بیان کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان قاتل، دہشت پسند اور دہشت گرد افراد سے دین کے نام کو الگ کر دیا جائے کیونکہ یہ لوگ تمام لوگوں کے سامنے اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور ان میں انہیں جیسے اور انہیں کے دین کے پیروکار مسلمان بھی ہیں؟

        اسلام کی تفسیر کی ذمہ داری کس کی ہے؟ واضح اور بدیہی جواب یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار علمائے اسلام، دیندار حضرات، شریعت کے ماہرین، فقہائے ملت، مفتیان کرام اور دینی علوم کے اساتذۂ عظام  ہیں۔

        اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف دینی مسئلہ ہے اور یہ مذکورہ افراد علوم دین کے ماہرین ہیں لہذا معاملہ کو صاحب معاملہ کے حوالہ کیا جانا چاہئے۔

         کیا یہ صحیح ہے؟ میں تھوڑی دیر کے بعد اس کا جواب دینے کی کوشش کرونگا لیکن یہ وہ سوالات ہیں جو میرے ذہن میں اس وقت پیدا ہوئے جب میں نے ازہر شریف کی طرف سے منعقدہ کانفرنس میں کی گئی عزت مآب شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب کی باتوں کا مطالعہ کیا۔ شیخ الازہر نے اس کانفرنس میں جو باتیں ارشاد فرمائیں ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ دین کو دہشت گردی سے بری قرار دینا کافی نہیں ہے اور یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ دین اسلام کی تصویر کشی یہ کی جا رہی ہے کہ وہ جنگوں کی آگ ہے تاکہ لوگوں کے ذہن ودماغ میں یہ بات گھر کر جائے اسلام کی شناخت یہی ہے اور روز بروز اسلام کی غلط تفسیر کی وجہ سے اس کی حقیقت وماہیت بگڑتی جا رہی ہے کیونکہ چند مجرم افراد اس کی آیتوں کو لے کر اس کی من مانی تفسیر کرتے ہیں۔

         پھر عزت مآب شیخ الازہر نے دائرہ کو مزید وسیع کرتے ہوئے تمام ادیان ومذاہب سے متعلق یہ کہا کہ ادیان ومذاہب کو دہشت گردی سے بری قرار دینا کافی نہیں ہے بلکہ ہم پر ضروری ہے کہ ہم اقدام کریں، پریشان کن صورت حال کا معائنہ کریں اور ادیان ومذاہب کے علماء کے درمیان پائی جانے والی کشمکش کو ختم کرنے  کی کوشش کریں کیونکہ اب اس کشمکش کا کوئی جواز نہیں ہے۔

         شیخ الازہر نے سچ فرمایا کہ ہتھیاروں کے ذریعہ حملہ کیے بغیر ان دہشت گردوں، دہشت پسندوں اور مجرموں کے جھوٹ سے دین کو بری قرار دینا کافی نہیں ہے اور میں اس سلسلہ میں ایک جملہ کا اضافہ کرکے کہتا ہوں کہ اس کی افادیت بھی نہیں ہے۔

        کیا اس کا سبب یہ ہے کہ دینی دہشت پسندی اور دہشت گردی پر منبی تقریر سے پچنے کے سلسلہ میں علمائے دین کی سرگرمی کم ہو گئی ہے جس تقریر کی بنیاد پر بعض افراد داعش اور القاعدہ یا عراق میں حوثیوں یا فرقہ پرست الحشد جیسی جماعتوں میں شامل ہو جاتے ہیں یا اس کا سبب سرگرمی کی کمی نہیں ہے بلکہ اس کا سبب میرے اندازہ کے مطابق اس کی افادیت اور اس کی اثر اندازی میں ہے۔ میں یہاں مسلمانوں سے متعلق گفتگو کرتا ہوں کہ دہشت پسند فکر اور دہشت گردی کے مسئلہ کا مقابلہ کرنے کا محور ہی غلط ہے۔

        جب اس کا آغاز ہی غلط محور سے شروع ہوگا تو یقینی طور پر اس کے نتائج بھی غلط ہونگے خواہ تحریکیں اور سرگرمیاں خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو جائیں۔ اسٹراٹیجی ضوابط میں کہا گیا ہے کہ جنگ کا معاملہ اس بات سے زیادہ عظیم ہے کہ اسے صرف جنرلوں کے لیے چھوڑ دیا جائے اور ہم کہتے ہیں کہ دہشت پسند دینی فکر کی ضرب کاری اس بات سے اعلی ہے کہ اسے صرف علمائے دین اور مشائخ کے لیے چھوڑ دیا جائے جبکہ یہی دہشت گردی کا منبع ہے اور ہمارے سامنے ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے تاریخی، سماجی، اقتصادی، نفسیاتی، میڈیا اور سیاسی جیسے دیگر پہلو ہیں اور دینی جواب صرف ایک حصہ ہے نہ کہ مکمل جواب ہے اور یہ ایک دوسرا مسئلہ ہے اور ممکن ہے کہ عنقریب اس کی طرف توجہ کی جائے۔

بدھ 2 جمادی الثانی 1438 ہجری – 1 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13973}

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>