پیٹرزبرگ سے شیخون تک! - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: جمعرات, 6 اپریل, 2017
0

پیٹرزبرگ سے شیخون تک!

          اس وقت کہ جب سینٹ پیٹرز برگ شہر میں ٹرینوں کو "دہشت گردی” کا نشانہ بنایا گیا اور اب تک اس میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد تقریبا پچاس ہے۔ جبکہ شام کے شمال میں ادلب کے شہر خان شیخون پر ایک بڑے جنگی جرم کے ارتکاب کے دوران زہریلی گیس کے فضائی حملے میں تقریبا 58 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

      پوری دنیا میں بحران اور حملے آپس میں سنگین مطابقت اور آلۂ کار کے ذریعے جوڑ رہے ہیں۔

      سینٹ پیٹرز برگ میں "معصوم” روسی شہریوں کے خلاف اچانک مجرمانہ کاروائی کی گئی جس پر ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ کاروائی "داعش” سے تعلق رکھنے والے قرغستان کے "اکبرجون گالیلوف” نے کی۔ یہ وہی ملک ہے جس نے نیو ایئر کی رات استنبول میں قتل کرنے والے مجرم کو پیدا کیا۔

      جو کچھ خان شیخون میں ہوا یہ عالمی نظام کے لئے ایک بڑا اسکینڈل ہے۔ جس کسی نے بھی اس زہریلے جان لیوا حملے کے بعد کھلی آنکھوں والے بچوں کی تصویریں دیکھی ہیں وہ گھبراہٹ اور غصے کا شکار ہوا ہے۔

      پوری دنیا سے ہر خاص و عام پیٹرزبرگ کے حملے کے خلاف ہے، لیکن کیا "پوری دنیا” اسی انداز سے اور اسی زور و شور کے ساتھ خان شیخون کے حملے کی بھی مذمت کرے گی؟

      مغربی دنیا کے حوالے سے، سچی بات یہ ہے کہ فرانس اور یورپی یونین نے اس پر آواز بلند کی تھی۔

      یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کی ذمہ دار فیڈریکا موگیرنی نے خان شیخون حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شامی صدر بشار الاسد اس حملے کے اہم ذمہ دار ہیں۔ دریں اثناء فرانسیسی وزیر خارجہ جان مارک ایرو نے سب سے مطلابہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے نہ کترائیں۔ دونوں ذمہ داران نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔

      بشار کی حکومت  اپنی حسب عادت ابو عدس جسی مشہور کہانی کی طرح راستہ صاف کرتے ہوئے حملے پر اپنے بیان میں کہا کہ مخالف جماعتیں اپنی شکست کی وجہ سے غضبناک ہیں۔۔۔ ٹھیک! اگر وہ غصہ میں ہے تو کیا تم "اپنے ہی لوگوں” پر خان شیخون میں زہریلی گیس کی بمباری کرو گے؟؟

      روس نے خان شیخوں کے جرم میں خود کے ملوث ہونے سے انکار پر ہی اکتفا کیا اور کہا کہ اس کے طیارے وہاں نہیں تھے۔

      شاید بلکہ یقینی سی بات ہے کہ یہ سب بشار کیمائی کا کیا دھرا ہے جس نے پہلے دمشق میں ایسا ہی کیا تھا تو اوباما نے اس پر ریڈ لائن کھینچ دی تھی۔

      جنیوا مذاکرات میں شامی مخالف جماعتوں کے وفد کے اہم مذاکرات کار محمد صبرا نے کہا کہ خان شیخون پر زہریلی گیس کی بمباری بحران کے حل کے لئے جنیوا مذاکرات کو "ہوا میں اڑانے” کے مترادف ہے۔

      سچ تو یہ ہے کہ، اس کی امید تھی کہ یہ دھماکے روس تک پہنچیں گے کیونکہ روس کی مداخلت سے پہلے بھی دہشت گرد جماعتوں کے لئے یہ پرکشش تھا تو اس کی مداخلت کے بعد کیسے نہیں؟

      جبکہ اس سے قبل واشنگٹن، لندن اور پیرس نے بشار کی مذمت کرنے کی کوشش کی اور خاص طور سے کیمیائی حملوں کے بعد اس کے خلاف بین الاقوامی قرار داد لانے کی کوشش کی، جسے 7 بار ویٹو کی تلوار سے کبھی ماسکو اور کبھی بیجنگ نے کاٹ ڈالا۔

      جی ہاں روس میں ٹرینوں پر حملہ قابل مذمت ہے بغیر کسی "لیکن” کے، اسی طرح خان شیخون کا جرم بھی قابل مذمت ہے بغیر کسی "لیکن” کے۔

برائی سے برائی ہی پھیلتی ہے۔۔ اللہ تعالی ہمیں ہر شر سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)

 

 

بدھ 8 رجب 1438 ہجری­ 05 اپریل 2017ء  شمارہ: (14008)
مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>