واشنگٹن کا حوثیوں کے خلاف نئے حملوں کا اعلان

یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملے کے بعد ہونے والے دھماکے کا منظر (روئٹرز)
یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملے کے بعد ہونے والے دھماکے کا منظر (روئٹرز)
TT

واشنگٹن کا حوثیوں کے خلاف نئے حملوں کا اعلان

یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملے کے بعد ہونے والے دھماکے کا منظر (روئٹرز)
یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملے کے بعد ہونے والے دھماکے کا منظر (روئٹرز)

امریکی فوج نے کل جمعہ کے روز یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر نئے حملے کیے اور وائٹ ہاؤس کے اعلان کے مطابق، اس نے میزائل لانچ کرنے والے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جو موجود بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے کے لیے تیار تھے۔

"فرانسیسی پریس ایجنسی" کی رپورٹ کے مطابق، امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کل صحافیوں کو بتایا: "امریکی افواج نے اپنے دفاع میں آج صبح یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر تین کامیاب حملے کیے۔"

کربی نے نشاندہی کی کہ "حوثیوں کے پاس اب بھی کچھ جارحانہ صلاحیتیں موجود ہیں،" لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے غزہ میں جنگ بندی کے کسی بھی مذاکرات میں کردار ادا نہیں کریں گے۔"  (...)

ہفتہ-08 رجب 1445ہجری، 20 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16489]



واشنگٹن یقین دہانی کر رہا ہے کہ غزہ میں یرغمالیوں سے متعلق معاہدہ اب بھی "ممکن" ہے

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر (امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ)
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر (امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ)
TT

واشنگٹن یقین دہانی کر رہا ہے کہ غزہ میں یرغمالیوں سے متعلق معاہدہ اب بھی "ممکن" ہے

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر (امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ)
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر (امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ)

وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے صحافیوں کو بتایا: "ہم سمجھتے ہیں کہ معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے اور ہم اس کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔" انہوں نے مزید کہا: "ہمیں یقین ہے کہ جنگ بندی (کے اعلان) اور یرغمالیوں کے بارے میں ایک معاہدے تک پہنچنے کے فوائد بہت زیادہ ہیں، جو نہ صرف رہا کیے جانے والے یرغمالیوں کے لیے ہیں، بلکہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی کوششوں اور تنازعے کے موثر و دیرپا حل کے لیے ہماری قابلیت کے مفاد میں ہے۔"

ملر نے غزہ میں چھ سالہ بچی ہند رجب کی "المناک" موت پر افسوس کا اظہار کیا، جو کئی روز تک مدد کے لیے پکارتی رہی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں جلد تحقیقات مکمل کرے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ "اس بچی کی کہانی تباہ کن اور دل دہلا دینے والی ہے اور یقیناً اسی طرح ہزاروں دوسرے بچے بھی ہیں جو اس تنازع کے نظر ہو چکے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے اسرائیلی حکام سے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی فوری تحقیقات کریں۔"

منگل-03 شعبان 1445ہجری، 13 فروری 2024، شمارہ نمبر[16513]