اردگان نے آیا صوفیہ میں اپنی انتخابی مہم کا اختتام کیا... اور اوغلو نے اتاترک کے مقبرے کا دورہ کیا

ترکی کے صدارتی امیدوار کمال کلیکدار اوغلو
ترکی کے صدارتی امیدوار کمال کلیکدار اوغلو
TT

اردگان نے آیا صوفیہ میں اپنی انتخابی مہم کا اختتام کیا... اور اوغلو نے اتاترک کے مقبرے کا دورہ کیا

ترکی کے صدارتی امیدوار کمال کلیکدار اوغلو
ترکی کے صدارتی امیدوار کمال کلیکدار اوغلو

ترکی اور اس کے مستقبل کے لیے اہم انتخابات کے موقع پر، سبکدوش ہونے والے صدر رجب طیب اردگان ہفتے کا پورا دن استنبول بھر میں اپنے حامیوں کو متحرک کرتے رہے، اور پھر اپنی انتخابی مہم کا اختتام آیا صوفیہ، وہ چرچ جسے دوبارہ مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ میں نماز کی ادائیگی کے ساتھ کیا۔ جب کہ ان کے حریف کمال کلیکدار نے انقرہ میں سیکولر جمہوریت کے بانی مصطفی کمال اتاترک کی تعریف کی۔

"فرانسیسی پریس" ایجنسی کے مطابق، اردگان اپنے سوشل ڈیموکریٹک حریف کمال کلیکدار اوغلو کے خلاف اپنی انتخابی مہم، جو ان کے اور ان کے آس پاس کے لوگوں کی طرف سے تقریباً واضح توہین اور دھمکیوں کی بنیاد پر چلائی گئی تھی، کا اختتام چوتھی صدی کے اس گلابی بازنطینی کیتھیڈرل (چرچ) میں ہوا جسے انہوں نے 2020 میں نماز کے لیے دوبارہ کھولا تھا۔

اردگان نے ہفتہ کے روز اپنے حامیوں کے ایک ہجوم کے سامنے آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے پر فخر کرتے ہوئے کہا، "پورا مغرب پاگل ہو گیا تھا! لیکن میں نے ایسا کیا!"۔

رائے عامہ کے تازہ سروے بار بار حزب اختلاف کی برتری کے ساتھ قریبی نتائج دکھا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر اردگان کو دوسرے راؤنڈ سے گزرنا پڑا تو یہ بھی ان کے لیے ایک نظیر ہوگا کیونکہ وہ ہمیشہ سے پہلے راؤنڈ سے جیتنے کے عادی ہیں۔(...)

اتوار - 24شوال 1444 ہجری - 14 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16238]



پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
TT

پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)

پاکستان میں کل عام انتخابات مکمل ہوئے، جب کہ حکومت کی طرف سے انتخابات کے عمل کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود بھی تشدد اور دھاندلی کے شبہات سے پاک نہیں تھے۔

مبصرین نے توقع کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور ان کی پارٹی "تحریک انصاف" اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مباحثوں کے زیر سایہ کمزور انتخابی مہم کے بعد رائے شماری میں شرکت کرنے والوں کی شرح میں کمی دیکھی جائے گی، جیسا کہ 128 ملین ووٹرز نے وفاقی پارلیمنٹ کے لیے 336 نمائندوں کو اور صوبائی اسمبلیوں کو منتخب کرنا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ان کی پارٹی "پاکستان مسلم لیگ ن" کو سب سے خوش قسمت شمار کیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اکثریت حاصل نہیں کر پاتے ہیں، جس کا امکان ہے، تو وہ ایک یا زیادہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے ذریعے اقتدار سنبھال لیں گے، جس میں لالاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت ان کی خاندانی جماعت "پاکستان پیپلز پارٹی" بھی شامل ہے۔

مبصرین نے کل کے انتخابات کو "صورتحال بدل کر"  2018 کے انتخابات سے تشبیہ دی ہے، کیونکی اس وقت نواز شریف کو متعدد مقدمات میں بدعنوانی کے الزام میں سزا ہونے کی وجہ سے امیدواری سے باہر کر دیا گیا اور عمران خان فوج کی حمایت اور عوامی حمایت کی بدولت اقتدار میں آئے۔ دوسری جانب، نواز شریف نے لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے لیے فوج کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہے۔ (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]