اسرائیل میں پہلی بار احتجاجی قائدین قبضے کے خلاف بات کر رہے ہیں

جو کہ 38 ہفتوں کے مظاہروں کے بعد ہے، جس میں انہوں نے مسئلہ فلسطین کا ذکر کرنے سے گریز کیا

عدلیہ سے متعلق نیتن یاہو کے منصوبوں کے خلاف اسرائیلی ریزرو فوجیوں کی جانب سے کیے گئے پچھلے احتجاج کا منظر (اے پی)
عدلیہ سے متعلق نیتن یاہو کے منصوبوں کے خلاف اسرائیلی ریزرو فوجیوں کی جانب سے کیے گئے پچھلے احتجاج کا منظر (اے پی)
TT

اسرائیل میں پہلی بار احتجاجی قائدین قبضے کے خلاف بات کر رہے ہیں

عدلیہ سے متعلق نیتن یاہو کے منصوبوں کے خلاف اسرائیلی ریزرو فوجیوں کی جانب سے کیے گئے پچھلے احتجاج کا منظر (اے پی)
عدلیہ سے متعلق نیتن یاہو کے منصوبوں کے خلاف اسرائیلی ریزرو فوجیوں کی جانب سے کیے گئے پچھلے احتجاج کا منظر (اے پی)

اسرائیل میں حکومتی سسٹم اور عدالتی نظام میں انقلاب سے متعلق حکومتی منصوبے کے خلاف 38 ہفتوں سے جاری مظاہروں میں لاکھوں شہریوں کی شمولیت کے ساتھ احتجاجی رہنماؤں نے بینجمن نیتن یاہو کی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے بیانات دیئے اور کہا کہ وہ امن کے بارے میں اپنی باتوں میں ہرگز مخلص نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے مسئلہ فلسطین کے ساتھ قابض حکومت اور حکمران دائیں بازو کے منصوبے کے ساتھ ساتھ اپنے عوامی وعدوں کو بھی چھوڑ دیا ہے اور وہ اپنے انتہائی دائیں بازو کے ٹھکانوں پر واپس آنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

اگرچہ احتجاجی رہنماؤں نے دیگر اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں کی طرح ابراہیم امن معاہدے کی حمایت کا اظہار کیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نئی چال سے خبردار کیا جو خطرناک نتائج کی حامل ہے۔ احتجاجی مظاہروں کی سب سے نمایاں خاتون رہنما پروفیسر شکما پریسلر نے کہا: "ہم نیتن یاہو کی کسی بھی چال سے بیوقوف نہیں بنیں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ ہیں جو "ایک مسیحی آمریت چاہتے ہیں وہ انتہائی دائیں بازو کی طاقت کو مضبوط کرکے فلسطینیوں کے ساتھ امن کے راستے پر پیشرفت کے کسی بھی امکان کو کمزور کر رہے ہیں۔" (...)

پیر-10 ربیع الاول 1445ہجری، 25 ستمبر 2023، شمارہ نمبر[16372]



پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
TT

پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)

پاکستان میں کل عام انتخابات مکمل ہوئے، جب کہ حکومت کی طرف سے انتخابات کے عمل کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود بھی تشدد اور دھاندلی کے شبہات سے پاک نہیں تھے۔

مبصرین نے توقع کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور ان کی پارٹی "تحریک انصاف" اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مباحثوں کے زیر سایہ کمزور انتخابی مہم کے بعد رائے شماری میں شرکت کرنے والوں کی شرح میں کمی دیکھی جائے گی، جیسا کہ 128 ملین ووٹرز نے وفاقی پارلیمنٹ کے لیے 336 نمائندوں کو اور صوبائی اسمبلیوں کو منتخب کرنا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ان کی پارٹی "پاکستان مسلم لیگ ن" کو سب سے خوش قسمت شمار کیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اکثریت حاصل نہیں کر پاتے ہیں، جس کا امکان ہے، تو وہ ایک یا زیادہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے ذریعے اقتدار سنبھال لیں گے، جس میں لالاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت ان کی خاندانی جماعت "پاکستان پیپلز پارٹی" بھی شامل ہے۔

مبصرین نے کل کے انتخابات کو "صورتحال بدل کر"  2018 کے انتخابات سے تشبیہ دی ہے، کیونکی اس وقت نواز شریف کو متعدد مقدمات میں بدعنوانی کے الزام میں سزا ہونے کی وجہ سے امیدواری سے باہر کر دیا گیا اور عمران خان فوج کی حمایت اور عوامی حمایت کی بدولت اقتدار میں آئے۔ دوسری جانب، نواز شریف نے لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے لیے فوج کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہے۔ (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]