نیتن یاہو نے ایک بار پھر غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر کسی بھی جنگ بندی کو مسترد کر دیا

بدھ، 8 نومبر، 2023 کو غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی کے دوران اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر موجود ہیں (اے پی)
بدھ، 8 نومبر، 2023 کو غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی کے دوران اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر موجود ہیں (اے پی)
TT

نیتن یاہو نے ایک بار پھر غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر کسی بھی جنگ بندی کو مسترد کر دیا

بدھ، 8 نومبر، 2023 کو غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی کے دوران اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر موجود ہیں (اے پی)
بدھ، 8 نومبر، 2023 کو غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی کے دوران اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر موجود ہیں (اے پی)

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کل بدھ کے روز ایک بار پھر "حماس" کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو مسترد کر دیا، جو کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے لیے قطر کی طرف سے ثالثی کی اطلاع کے پس منظر میں ہے۔

"فرانسیسی پریس ایجنسی" کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہا: "میں ہر طرف سے ہمارے تک پہنچنے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے ایک بات واضح طور پر دہرانا چاہتا ہوں: ہمارے یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر کوئی جنگ بندی نہیں ہوگی، اس کے علاوہ باقی سب بیکار ہے۔"

جمعرات-25 ربیع الثاني 1445ہجری، 09 نومبر 2023، شمارہ نمبر[16417]



پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
TT

پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)

پاکستان میں کل عام انتخابات مکمل ہوئے، جب کہ حکومت کی طرف سے انتخابات کے عمل کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود بھی تشدد اور دھاندلی کے شبہات سے پاک نہیں تھے۔

مبصرین نے توقع کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور ان کی پارٹی "تحریک انصاف" اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مباحثوں کے زیر سایہ کمزور انتخابی مہم کے بعد رائے شماری میں شرکت کرنے والوں کی شرح میں کمی دیکھی جائے گی، جیسا کہ 128 ملین ووٹرز نے وفاقی پارلیمنٹ کے لیے 336 نمائندوں کو اور صوبائی اسمبلیوں کو منتخب کرنا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ان کی پارٹی "پاکستان مسلم لیگ ن" کو سب سے خوش قسمت شمار کیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اکثریت حاصل نہیں کر پاتے ہیں، جس کا امکان ہے، تو وہ ایک یا زیادہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے ذریعے اقتدار سنبھال لیں گے، جس میں لالاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت ان کی خاندانی جماعت "پاکستان پیپلز پارٹی" بھی شامل ہے۔

مبصرین نے کل کے انتخابات کو "صورتحال بدل کر"  2018 کے انتخابات سے تشبیہ دی ہے، کیونکی اس وقت نواز شریف کو متعدد مقدمات میں بدعنوانی کے الزام میں سزا ہونے کی وجہ سے امیدواری سے باہر کر دیا گیا اور عمران خان فوج کی حمایت اور عوامی حمایت کی بدولت اقتدار میں آئے۔ دوسری جانب، نواز شریف نے لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے لیے فوج کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہے۔ (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]