اسرائیل میں سائبر حملے نے ایمبولینس، پولیس اور فائر بریگیڈ سروسز کے ساتھ رابطہ لائنوں کو منقطع کر دیا

ایک ایمبولینس تل ابیب کے ایک روڈ پر چل رہی ہے (اے ایف پی)
ایک ایمبولینس تل ابیب کے ایک روڈ پر چل رہی ہے (اے ایف پی)
TT

اسرائیل میں سائبر حملے نے ایمبولینس، پولیس اور فائر بریگیڈ سروسز کے ساتھ رابطہ لائنوں کو منقطع کر دیا

ایک ایمبولینس تل ابیب کے ایک روڈ پر چل رہی ہے (اے ایف پی)
ایک ایمبولینس تل ابیب کے ایک روڈ پر چل رہی ہے (اے ایف پی)

آج منگل کے روز اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے کہا ہے کہ سائبر حملے کے نتیجے میں اسرائیل میں ایمبولینس، پولیس اور فائر بریگیڈ سروسز کے ساتھ رابطہ لائنیں منقطع ہوگئی ہیں۔

اخبار نے اطلاع دی ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے اداروں نے رابطہ لائنوں کی بحالی تک ہنگامی حالات میں ایس ایم ایس سروس کے ذریعے مختصر پیغامات بھیجنے کے لیے نمبر شائع کیے ہیں۔

"عرب ورلڈ نیوز ایجنسی" کے مطابق، ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیلی ایمرجنسی سروسز پر حملہ کس نے کیا ہے۔

منگل-14 جمادى الأولى 1444 ہجری، 28 نومبر 2023، شمارہ نمبر[16436]



پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
TT

پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)

پاکستان میں کل عام انتخابات مکمل ہوئے، جب کہ حکومت کی طرف سے انتخابات کے عمل کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود بھی تشدد اور دھاندلی کے شبہات سے پاک نہیں تھے۔

مبصرین نے توقع کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور ان کی پارٹی "تحریک انصاف" اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مباحثوں کے زیر سایہ کمزور انتخابی مہم کے بعد رائے شماری میں شرکت کرنے والوں کی شرح میں کمی دیکھی جائے گی، جیسا کہ 128 ملین ووٹرز نے وفاقی پارلیمنٹ کے لیے 336 نمائندوں کو اور صوبائی اسمبلیوں کو منتخب کرنا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ان کی پارٹی "پاکستان مسلم لیگ ن" کو سب سے خوش قسمت شمار کیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اکثریت حاصل نہیں کر پاتے ہیں، جس کا امکان ہے، تو وہ ایک یا زیادہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے ذریعے اقتدار سنبھال لیں گے، جس میں لالاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت ان کی خاندانی جماعت "پاکستان پیپلز پارٹی" بھی شامل ہے۔

مبصرین نے کل کے انتخابات کو "صورتحال بدل کر"  2018 کے انتخابات سے تشبیہ دی ہے، کیونکی اس وقت نواز شریف کو متعدد مقدمات میں بدعنوانی کے الزام میں سزا ہونے کی وجہ سے امیدواری سے باہر کر دیا گیا اور عمران خان فوج کی حمایت اور عوامی حمایت کی بدولت اقتدار میں آئے۔ دوسری جانب، نواز شریف نے لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے لیے فوج کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہے۔ (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]