غزہ میں زیر حراست 6 افراد اسرائیل کے راستے میں ہیں: اسرائیلی فوج

29 نومبر 2023 کو یرغمالیوں کی رہائی کے دوران ریڈ کراس کی ایک گاڑی غزہ سے رفح کراسنگ کے ذریعے مصر کی جانب جاتے ہوئے (اے ایف پی)
29 نومبر 2023 کو یرغمالیوں کی رہائی کے دوران ریڈ کراس کی ایک گاڑی غزہ سے رفح کراسنگ کے ذریعے مصر کی جانب جاتے ہوئے (اے ایف پی)
TT

غزہ میں زیر حراست 6 افراد اسرائیل کے راستے میں ہیں: اسرائیلی فوج

29 نومبر 2023 کو یرغمالیوں کی رہائی کے دوران ریڈ کراس کی ایک گاڑی غزہ سے رفح کراسنگ کے ذریعے مصر کی جانب جاتے ہوئے (اے ایف پی)
29 نومبر 2023 کو یرغمالیوں کی رہائی کے دوران ریڈ کراس کی ایک گاڑی غزہ سے رفح کراسنگ کے ذریعے مصر کی جانب جاتے ہوئے (اے ایف پی)

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں رہا کیے گئے 6 اسرائیلی یرغمالی عارضی انسانی جنگ بندی ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل جمعرات کو اسرائیل واپس جانے کے لیے "راستے میں" ہیں۔

دوسری جانب، تحریک "حماس" کے عسکری ونگ "عزالدین القسام بریگیڈز" نے اعلان کیا کہ اس نے غزہ کی پٹی میں یرغمالیوں کی رہائی کے حالیہ آپریشن میں 6 اسرائیلیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا ، جب کہ دو خواتین کو اس سے پہلے ہی رہا کر دیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ یہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی ساتویں حوالگی تھی۔

جمعہ-17 جمادى الأولى 1445ہجری، 01 دسمبر 2023، شمارہ نمبر[16439]



پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
TT

پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)

پاکستان میں کل عام انتخابات مکمل ہوئے، جب کہ حکومت کی طرف سے انتخابات کے عمل کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود بھی تشدد اور دھاندلی کے شبہات سے پاک نہیں تھے۔

مبصرین نے توقع کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور ان کی پارٹی "تحریک انصاف" اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مباحثوں کے زیر سایہ کمزور انتخابی مہم کے بعد رائے شماری میں شرکت کرنے والوں کی شرح میں کمی دیکھی جائے گی، جیسا کہ 128 ملین ووٹرز نے وفاقی پارلیمنٹ کے لیے 336 نمائندوں کو اور صوبائی اسمبلیوں کو منتخب کرنا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ان کی پارٹی "پاکستان مسلم لیگ ن" کو سب سے خوش قسمت شمار کیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اکثریت حاصل نہیں کر پاتے ہیں، جس کا امکان ہے، تو وہ ایک یا زیادہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے ذریعے اقتدار سنبھال لیں گے، جس میں لالاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت ان کی خاندانی جماعت "پاکستان پیپلز پارٹی" بھی شامل ہے۔

مبصرین نے کل کے انتخابات کو "صورتحال بدل کر"  2018 کے انتخابات سے تشبیہ دی ہے، کیونکی اس وقت نواز شریف کو متعدد مقدمات میں بدعنوانی کے الزام میں سزا ہونے کی وجہ سے امیدواری سے باہر کر دیا گیا اور عمران خان فوج کی حمایت اور عوامی حمایت کی بدولت اقتدار میں آئے۔ دوسری جانب، نواز شریف نے لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے لیے فوج کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہے۔ (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]