اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان پر حملے میں ایک لبنانی فوجی کی ہلاکت پر "افسوس"

اسرائیلی فوجی لبنانی سرحد کے قریب ایک مقام پر کھڑے ہیں (اے ایف پی)
اسرائیلی فوجی لبنانی سرحد کے قریب ایک مقام پر کھڑے ہیں (اے ایف پی)
TT

اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان پر حملے میں ایک لبنانی فوجی کی ہلاکت پر "افسوس"

اسرائیلی فوجی لبنانی سرحد کے قریب ایک مقام پر کھڑے ہیں (اے ایف پی)
اسرائیلی فوجی لبنانی سرحد کے قریب ایک مقام پر کھڑے ہیں (اے ایف پی)

آج (بروز بدھ) اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں شروع کیے گئے ایک حملے میں ایک لبنانی فوجی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

"ٹائمز آف اسرائیل" اخبار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے معافی کے ایک "نادر بیان" میں کہا کہ اس کی فورسز نے کل منگل کے روز جب حملہ کیا تو وہ سرحد پر لبنانی "حزب اللہ" کی نگرانی اور لانچنگ پوائنٹ کے قریب "نشاندہی کیے گئے ایک ٹھوس خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے کام کر رہی تھیں۔"

اخبار نے وضاحت کی کہ اسرائیلی فوج کو اطلاع ملی تھی کہ اس کے حملے کے دوران لبنانی فوج کے متعدد فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

اس نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے کہا کہ "لبنانی فورسز حملے کا ہدف نہیں تھیں... اسرائیلی فوج کو اس حادثہ پر افسوس ہے اور اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔"

بدھ-22 جمادى الأول 1444 ہجری، 06 دسمبر 2023، شمارہ نمبر[16444]



اسرائیل "اے ایم" ریڈیو لہروں کے ذریعے غزہ کی سرنگوں میں گھسنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ یرغمالیوں کے  بارے میں مطمئن ہو

ایک اسرائیلی فوجی نے غزہ میں ایک سرنگ کا انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فلسطینی عسکریت پسند اسے اسرائیل پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں (اے پی)
ایک اسرائیلی فوجی نے غزہ میں ایک سرنگ کا انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فلسطینی عسکریت پسند اسے اسرائیل پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں (اے پی)
TT

اسرائیل "اے ایم" ریڈیو لہروں کے ذریعے غزہ کی سرنگوں میں گھسنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ یرغمالیوں کے  بارے میں مطمئن ہو

ایک اسرائیلی فوجی نے غزہ میں ایک سرنگ کا انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فلسطینی عسکریت پسند اسے اسرائیل پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں (اے پی)
ایک اسرائیلی فوجی نے غزہ میں ایک سرنگ کا انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فلسطینی عسکریت پسند اسے اسرائیل پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں (اے پی)

اسرائیلی فوج کا شمالی غزہ کی پٹی میں تحریک "حماس" کی ایک سرنگ پر کنٹرول کرنے کے بعد ایک فوجی گروپ اس سرنگ میں داخل ہوا، جبکہ ان کے ہاتھوں میں کچھ غیر معمولی سامان تھا، جب میں دھماکہ خیز مواد، روبوٹک سینسرز، یا براہ راست لڑائی کے لیے ہینڈ گن نہیں تھے، بلکہ اسٹیشنوں پر کرسر کو منتقل کرنے کے لیے میٹر بینڈ والے پرانے زمانے کے ریڈیو تھے۔

ان کا سرنگ میں اترنے کا مشن اس وقت مکمل ہو گیا جب ان کے آلات اسرائیل سے ریڈیو سگنل وصول کرنے کے قابل نہ رہے اور انہوں نے دیکھا کہ یہ پوائنٹ 10 اور 12 میٹر کے درمیان گہرا ہے، جو عام طور پر فلسطینی عسکریت پسندوں کے سرنگ نیٹ ورک کی بالائی "منزل" ہوتی ہے۔

یہ تجربہ 4 جنوری کو اسرائیلی وزیر مواصلات شلومو قرائی کی درخواست پر کیا گیا، جنہوں نے ملک کے سب سے مشہور "ایف ایم" آرمی ریڈیو کی شارٹ ویو کو بڑھا کر پروگرام کو میڈیم ویوز "اے ایم" پر نشر کرنا شروع کیا ہے۔

"اے ایم" لہروں کی وسیع تر رسائی کا مطلب یہ ہے کہ پناہ گاہوں میں موجود شہریوں کو ہنگامی اپڈیٹس کے بارے میں بآسانی مطلع کرنا ہے۔ جب کہ غزہ میں موجود فوجیوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا، کیونکہ انہیں باخبر رہنے کے لیے ٹرانسسٹر ریڈیو کی اجازت ہے۔ جب کہ "حماس" ان کے جغرافیائی محل وقوع کا تعین نہ کرے اس خدشہ کے سبب ان سے اپنے موبائل فون جمع کروانے کو کہا جاتا ہے۔ (...)

منگل-11 رجب 1445ہجری، 23 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16492]