شمالی کوریا کے رہنما نے 2023 کو "عظیم تبدیلی کا سال" قرار دے دیا

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ آن (اے ایف پی)
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ آن (اے ایف پی)
TT

شمالی کوریا کے رہنما نے 2023 کو "عظیم تبدیلی کا سال" قرار دے دیا

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ آن (اے ایف پی)
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ آن (اے ایف پی)

شمالی کوریا کی مرکزی خبر رساں ایجنسی نے آج بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ آن نے ملک کی حکمران جماعت کا ایک اہم اجلاس شروع کر دیا ہے، جس میں نئے سال کے لیے سیاسی فیصلوں کی نقاب کشائی کی راہ ہموار ہو گی۔

کوریائی ورکرز پارٹی کی آٹھویں مرکزی کمیٹی کا نواں جنرل اجلاس رواں سال کے اختتام پر ہو رہا ہے جس کے دوران بائیکاٹ کی گئی ریاست نے اپنے آئین میں جوہری پالیسی کو شامل کیا اور ایک جاسوس سیٹلائٹ اور ایک نیا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کامیابی سے لانچ کیا۔

خیال رہے کہ یہ اجلاس کئی روز تک جاری رہتے ہیں جس میں پارٹی اور حکومتی عہدیدار شرکت کرتے ہیں اور عام طور پر اہم سیاسی اعلانات بھی انہی اجلاسوں کے دوران کیے جاتے ہیں۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اجلاس سے قبل نئے سال کی مناسبت پر کم جونگ کی تقریر کو نشر کیا تھا۔

شمالی کوریا کی مرکزی خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ اجلاس کے شرکاء نے اس کے پہلے دن ایجنڈے کے چھ اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا، جن میں رواں سال کی پالیسیوں پر عمل درآمد اور بجٹ، 2024 کے بجٹ کے منصوبے اور پارٹی کی قیادت کو مضبوط کرنے کے طریقے شامل ہیں۔ (...)

بدھ-14 جمادى الآخر 1445ہجری، 27 دسمبر 2023، شمارہ نمبر[16465]



پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
TT

پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)

پاکستان میں کل عام انتخابات مکمل ہوئے، جب کہ حکومت کی طرف سے انتخابات کے عمل کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود بھی تشدد اور دھاندلی کے شبہات سے پاک نہیں تھے۔

مبصرین نے توقع کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور ان کی پارٹی "تحریک انصاف" اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مباحثوں کے زیر سایہ کمزور انتخابی مہم کے بعد رائے شماری میں شرکت کرنے والوں کی شرح میں کمی دیکھی جائے گی، جیسا کہ 128 ملین ووٹرز نے وفاقی پارلیمنٹ کے لیے 336 نمائندوں کو اور صوبائی اسمبلیوں کو منتخب کرنا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ان کی پارٹی "پاکستان مسلم لیگ ن" کو سب سے خوش قسمت شمار کیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اکثریت حاصل نہیں کر پاتے ہیں، جس کا امکان ہے، تو وہ ایک یا زیادہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے ذریعے اقتدار سنبھال لیں گے، جس میں لالاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت ان کی خاندانی جماعت "پاکستان پیپلز پارٹی" بھی شامل ہے۔

مبصرین نے کل کے انتخابات کو "صورتحال بدل کر"  2018 کے انتخابات سے تشبیہ دی ہے، کیونکی اس وقت نواز شریف کو متعدد مقدمات میں بدعنوانی کے الزام میں سزا ہونے کی وجہ سے امیدواری سے باہر کر دیا گیا اور عمران خان فوج کی حمایت اور عوامی حمایت کی بدولت اقتدار میں آئے۔ دوسری جانب، نواز شریف نے لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے لیے فوج کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہے۔ (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]