اسرائیل نے نیا وزیر خارجہ مقرر کر دیا

اسرائیل کے نئے وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز (اے ایف پی)
اسرائیل کے نئے وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز (اے ایف پی)
TT

اسرائیل نے نیا وزیر خارجہ مقرر کر دیا

اسرائیل کے نئے وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز (اے ایف پی)
اسرائیل کے نئے وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز (اے ایف پی)

اسرائیلی حکومت نے کل اتوار کے روز ایلی کوہن کی جگہ ایک نیا وزیر خارجہ تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے اور اس کے بیان کے مطابق کابینہ میں یہ ردوبدل پہلے سے طے شدہ تھا۔

اس وزارتی ردوبدل کے مطابق وزیر ایلی کوہن کو وزیر یسرائیل کاٹز کی جگہ وزیر برائے توانائی و انفراسٹرکچر مقرر کیا جائے گا اور وزیر یسرائیل کاٹز کو کوہن کی جگہ وزیر خارجہ کے عہدے پر تعینات کیا جائے گا، جب کہ یہ تقرریاں "کنیسٹ" کی منظوری سے مشروط ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ: "حکومت نے ایلی کوہن کو وزیر برائے توانائی و انفراسٹرکچر کے عہدے پر... اور یسرائیل کاٹز کو وزیر خارجہ کے عہدے پر تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔" بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کوہن وزارتی کمیٹی برائے قومی سلامتی امور کے رکن کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے، جیسا کہ "فرانسیسی پریس ایجنسی" نے خبر دی ہے۔

خیال رہے کہ کابینہ میں یہ ردوبدل 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر تحریک "حماس" کے سخت حملے کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور تحریک "حماس" کے درمیان  جنگ شروع ہونے کے دو ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد ہے۔ (...)

پیر-19 جمادى الآخر 1445ہجری، یکم جنوری 2024، شمارہ نمبر[16470]



پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
TT

پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)

پاکستان میں کل عام انتخابات مکمل ہوئے، جب کہ حکومت کی طرف سے انتخابات کے عمل کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود بھی تشدد اور دھاندلی کے شبہات سے پاک نہیں تھے۔

مبصرین نے توقع کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور ان کی پارٹی "تحریک انصاف" اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مباحثوں کے زیر سایہ کمزور انتخابی مہم کے بعد رائے شماری میں شرکت کرنے والوں کی شرح میں کمی دیکھی جائے گی، جیسا کہ 128 ملین ووٹرز نے وفاقی پارلیمنٹ کے لیے 336 نمائندوں کو اور صوبائی اسمبلیوں کو منتخب کرنا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ان کی پارٹی "پاکستان مسلم لیگ ن" کو سب سے خوش قسمت شمار کیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اکثریت حاصل نہیں کر پاتے ہیں، جس کا امکان ہے، تو وہ ایک یا زیادہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے ذریعے اقتدار سنبھال لیں گے، جس میں لالاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت ان کی خاندانی جماعت "پاکستان پیپلز پارٹی" بھی شامل ہے۔

مبصرین نے کل کے انتخابات کو "صورتحال بدل کر"  2018 کے انتخابات سے تشبیہ دی ہے، کیونکی اس وقت نواز شریف کو متعدد مقدمات میں بدعنوانی کے الزام میں سزا ہونے کی وجہ سے امیدواری سے باہر کر دیا گیا اور عمران خان فوج کی حمایت اور عوامی حمایت کی بدولت اقتدار میں آئے۔ دوسری جانب، نواز شریف نے لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے لیے فوج کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہے۔ (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]