جنوبی کوریا کے حزب اختلاف کے رہنما کی گردن میں چھرا گھونپ دیا گیا

جنوبی کوریا کے حزب اختلاف کے رہنما لی جے میونگ کو چاقو مارنے کے بعد (اے ایف پی)
جنوبی کوریا کے حزب اختلاف کے رہنما لی جے میونگ کو چاقو مارنے کے بعد (اے ایف پی)
TT

جنوبی کوریا کے حزب اختلاف کے رہنما کی گردن میں چھرا گھونپ دیا گیا

جنوبی کوریا کے حزب اختلاف کے رہنما لی جے میونگ کو چاقو مارنے کے بعد (اے ایف پی)
جنوبی کوریا کے حزب اختلاف کے رہنما لی جے میونگ کو چاقو مارنے کے بعد (اے ایف پی)

نیوز ایجنسی "یونہاپ" نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی کوریا کی اپوزیشن پارٹی کے رہنما لی جائی میونگ آج منگل کے روز ملک کے جنوب میں واقع ساحلی شہر بوسان کے دورے کے دوران حملہ میں متاثر ہوگئے ہیں۔

ایجنسی نے کہا کہ لی کو بوسان میں ہوائی اڈے کی ایک مجوزہ جگہ کا دورہ کرنے کے دوران ایک نامعلوم شخص نے ان کی گردن کے بائیں جانب سے وار کیا۔

خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کی رپورٹ کے مطابق، حملہ آور کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایجنسی "یونہاپ" نے جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول کے دفتر کے حوالے سے کہا کہ اپوزیشن پارٹی کے رہنما پر حملہ "ناقابل قبول" ہے۔

اخباری رپورٹس میں جاری شدہ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ لی اپنی آنکھیں بند کیے زمین پر لیٹے ہوئے ہیں اور ان کے اردگرد موجود دیگر لوگوں اپنے ہاتھوں سے ان کی گردن کو رومال سے دبائے ہوئے ہیں۔

"یونہاپ" نے کہا کہ لی کو جب ہسپتال لے جایا گیا تو وہ ہوش میں تھے لیکن خون بہہ رہا تھا۔

خیال رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما لی جائی میونگ 2022 کے صدارتی انتخابات میں اس وقت کے گورنر  یون سوک یول سے ہار گئے تھے۔ (...)

منگل-20 جمادى الآخر 1445ہجری، 02 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16471]



پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
TT

پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)

پاکستان میں کل عام انتخابات مکمل ہوئے، جب کہ حکومت کی طرف سے انتخابات کے عمل کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود بھی تشدد اور دھاندلی کے شبہات سے پاک نہیں تھے۔

مبصرین نے توقع کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور ان کی پارٹی "تحریک انصاف" اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مباحثوں کے زیر سایہ کمزور انتخابی مہم کے بعد رائے شماری میں شرکت کرنے والوں کی شرح میں کمی دیکھی جائے گی، جیسا کہ 128 ملین ووٹرز نے وفاقی پارلیمنٹ کے لیے 336 نمائندوں کو اور صوبائی اسمبلیوں کو منتخب کرنا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ان کی پارٹی "پاکستان مسلم لیگ ن" کو سب سے خوش قسمت شمار کیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اکثریت حاصل نہیں کر پاتے ہیں، جس کا امکان ہے، تو وہ ایک یا زیادہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے ذریعے اقتدار سنبھال لیں گے، جس میں لالاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت ان کی خاندانی جماعت "پاکستان پیپلز پارٹی" بھی شامل ہے۔

مبصرین نے کل کے انتخابات کو "صورتحال بدل کر"  2018 کے انتخابات سے تشبیہ دی ہے، کیونکی اس وقت نواز شریف کو متعدد مقدمات میں بدعنوانی کے الزام میں سزا ہونے کی وجہ سے امیدواری سے باہر کر دیا گیا اور عمران خان فوج کی حمایت اور عوامی حمایت کی بدولت اقتدار میں آئے۔ دوسری جانب، نواز شریف نے لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے لیے فوج کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہے۔ (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]