بات چیت کی ضرورت کو البرہان اور "حمیدتی" سمجھتے ہیں: اقوام متحدہ کے ایلچی کا بیان

وولکر پرتھیس (ای پی اے)
وولکر پرتھیس (ای پی اے)
TT

بات چیت کی ضرورت کو البرہان اور "حمیدتی" سمجھتے ہیں: اقوام متحدہ کے ایلچی کا بیان

وولکر پرتھیس (ای پی اے)
وولکر پرتھیس (ای پی اے)

سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اور بین الاقوامی تنظیم کے سیکریٹری جنرل کے نمائندے وولکر پرتھیس کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں سوڈانی مسلح افواج اور لیفٹیننٹ جنرل محمد حمدان دقلو (حمیدتی) کی قیادت میں "کوئیک سپورٹ فورسز" نے بات چیت کی ضرورت کو محسوس کیا اور یہ کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ان کے لیے ایک "ناگزیر" امر ہے۔

پرتھیس نے سلامتی کونسل کے اراکین کو اپنی حالیہ بریفنگ کے بعد اقوام متحدہ کے ریڈیو پر یقین دہانی کی کہ اقوام متحدہ مشکل صورت حال کے باوجود "اس مشکل آزمائش پر قابو پانے، امن کے حصول اور عبوری عمل کو بحال کرنے میں سوڈانیوں کی مدد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔" انہوں نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ "جنگ سے پیدا ہونے والے خوفناک اثرات پر قابو پانے اور سوڈان کے اندر اور باہر لاکھوں سوڈانی شہریوں کی زندگی بچانے کی خاطر انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے اپنی بساط کے مطابق سیاسی سطح پر اور انسانی بنیادوں پر حتی المقدور کوشش کر رہی ہے۔" (...)

جمعہ - 06 ذی القعدہ 1444 ہجری - 26 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16250]



حوثیوں سے جہاز رانی کے خطرات کی مذمت پر سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ ملتوی

نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 
نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 
TT

حوثیوں سے جہاز رانی کے خطرات کی مذمت پر سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ ملتوی

نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 
نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 

سلامتی کونسل نے بحیرہ احمر میں حوثی گروپوں کے حملوں کے خلاف کل ہونے والی ووٹنگ ملتوی کر دی ہے، جیسا کہ نیویارک میں باخبر ذرائع نے کہا: روس ایسی ترامیم لانا چاہتا تھا جن پر نظرثانی کی ضرورت تھی، چنانچہ توقع ہے کہ آج جمعرات کے روز ووٹنگ دوبارہ ایجنڈے پر واپس آجائے گی۔

قرارداد کا مسودہ امریکہ نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں، بین الاقوامی نیویگیشن اور خطے میں اہم آبی گزرگاہوں کے خلاف ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کے حملوں کی "ممکنہ سخت ترین الفاظ میں مذمت" کے لیے تیار کیا تھا تاکہ یہ "باور کرایا" جائے کہ دنیا کے ممالک کو اپنے جہازوں کے دفاع کا حق حاصل ہے اور بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ قرارداد 2140، 2216 اور 2624 کے مطابق حوثی گروپ کو ہتھیار، گولہ بارود اور دیگر فوجی ساز و سامان کی منتقلی ممنوع ہیں۔

قرارداد کا مسودہ تیار کرنے والا ملک (امریکہ) پہلے سے اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا پانچ مستقل ارکان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس، میں سے کوئی بھی ویٹو پاور کا استعمال کیے بغیر اس قرارداد کو جاری کرنے کی اجازت دیں گے، کیونکہ کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے سلامتی کونسل کے کل 15 اراکین میں سے 9 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔  (...)

جمعرات-29 جمادى الآخر 1445ہجری، 11 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16480]