گوتریس غزہ کی پٹی میں جنگ کے دوران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کر رہے ہیں

غزہ کی پٹی میں جبالیا کیمپ پر اسرائیلی حملے کے بعد فلسطینی زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں (رائٹرز)
غزہ کی پٹی میں جبالیا کیمپ پر اسرائیلی حملے کے بعد فلسطینی زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں (رائٹرز)
TT

گوتریس غزہ کی پٹی میں جنگ کے دوران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کر رہے ہیں

غزہ کی پٹی میں جبالیا کیمپ پر اسرائیلی حملے کے بعد فلسطینی زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں (رائٹرز)
غزہ کی پٹی میں جبالیا کیمپ پر اسرائیلی حملے کے بعد فلسطینی زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں (رائٹرز)

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ کی پٹی پر جاری جنگ میں اضافے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس جنگ کے نتیجے میں ہونے والی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔

گوتریس نے ایک بیان میں، قابض فوج کی جانب سے زمینی کارروائیوں میں توسیع اور پٹی پر فضائی حملوں میں شدت کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ایک بار پھر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور پٹی میں امدادی سامان کے بلا روک ٹوک داخلے کا مطالبہ کیا۔

بدھ-17 ربیع الثاني 1445ہجری، 01 نومبر 2023، شمارہ نمبر[16409]



حوثیوں سے جہاز رانی کے خطرات کی مذمت پر سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ ملتوی

نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 
نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 
TT

حوثیوں سے جہاز رانی کے خطرات کی مذمت پر سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ ملتوی

نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 
نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 

سلامتی کونسل نے بحیرہ احمر میں حوثی گروپوں کے حملوں کے خلاف کل ہونے والی ووٹنگ ملتوی کر دی ہے، جیسا کہ نیویارک میں باخبر ذرائع نے کہا: روس ایسی ترامیم لانا چاہتا تھا جن پر نظرثانی کی ضرورت تھی، چنانچہ توقع ہے کہ آج جمعرات کے روز ووٹنگ دوبارہ ایجنڈے پر واپس آجائے گی۔

قرارداد کا مسودہ امریکہ نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں، بین الاقوامی نیویگیشن اور خطے میں اہم آبی گزرگاہوں کے خلاف ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کے حملوں کی "ممکنہ سخت ترین الفاظ میں مذمت" کے لیے تیار کیا تھا تاکہ یہ "باور کرایا" جائے کہ دنیا کے ممالک کو اپنے جہازوں کے دفاع کا حق حاصل ہے اور بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ قرارداد 2140، 2216 اور 2624 کے مطابق حوثی گروپ کو ہتھیار، گولہ بارود اور دیگر فوجی ساز و سامان کی منتقلی ممنوع ہیں۔

قرارداد کا مسودہ تیار کرنے والا ملک (امریکہ) پہلے سے اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا پانچ مستقل ارکان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس، میں سے کوئی بھی ویٹو پاور کا استعمال کیے بغیر اس قرارداد کو جاری کرنے کی اجازت دیں گے، کیونکہ کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے سلامتی کونسل کے کل 15 اراکین میں سے 9 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔  (...)

جمعرات-29 جمادى الآخر 1445ہجری، 11 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16480]