سوڈان میں تنازعہ کے دونوں فریقوں میں ایک نئی جنگ بندی عمل میں آ رہی ہے

سوڈان میں تنازعہ کے دونوں فریقوں میں ایک نئی جنگ بندی عمل میں آ رہی ہے
TT

سوڈان میں تنازعہ کے دونوں فریقوں میں ایک نئی جنگ بندی عمل میں آ رہی ہے

سوڈان میں تنازعہ کے دونوں فریقوں میں ایک نئی جنگ بندی عمل میں آ رہی ہے

پیر کی رات سے سوڈان میں تنازعہ کے دونوں فریقوں کے درمیان باضابطہ طور پر فائر بندی کا آغاز ہو چکا ہے اور فریقین نے اس کا احترام کرنے کے عزم کی یقین دہانی کی، جو کہ خرطوم پر مسلسل فضائی حملوں اور ہونے والے دھماکوں کے ایک روز کے بعد ہے۔

اگرچہ جنگ بندی پر باضابطہ طور پر عمل درآمد 19:45 GMT پر ہوا، لیکن اس کی پابندی کے آغاز کا پتہ لگانا ممکن نہیں تھا، کیونکہ عموماً رات کے وقت خرطوم اور (مغرب میں) دارفور میں خاص طور پر جھڑپوں کی شدت میں کمی ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ دارالحکومت کے رہائشی افراد نے بتایا کہ لڑاکا طیاروں نے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد رات کے وقت شہر کے علاقوں پر پروازیں کیں۔ خبر رساں ادارے "رائٹرز" کے مطابق، رہائشیوں نے یہ بھی کہا کہ ام درمان اور بحری کے شہروں میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، لیکن انھوں نے جنگ بندی کی کسی بڑی خلاف ورزی کی اطلاع نہیں دی۔

خیال رہے کہ 37 روز تک مسلسل جاری رہنے والی لڑائی نے جنگ بندی کے آغاز سے قبل خرطوم کے تقریباً 50 لاکھ افراد کو شدید گرمی میں اپنے گھروں میں رہنے پر مجبور کیا، جن میں سے بیشتر پانی، بجلی اور مواصلات سے بھی محروم تھے۔ (...)



طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
TT

طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)

گزشتہ دو دنوں کے دوران شام کے ساحل سے ٹکرانے والے طوفان اور شدید بارشوں کے بعد لاذقیہ شہر میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سڑکیں اور درجنوں عمارتوں کی زیریں منزلیں زیر آب آ گئیں جس سے کچھ سرکاری اور نجی سہولیات معطل ہو کر رہ گئیں۔

شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں لاذقیہ کے گورنر انجینئر عامر اسماعیل ہلال نے اتوار کے روز اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا۔

لاذقیہ سٹی کونسل کے سربراہ حسین زنجرلی نے ایک مقامی ریڈیو کو ایک بیان میں کہا کہ اتوار کا دن لاذقیہ کے لیے انتہائی مشکل ہے اور "ہم نے اس کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے،" چنانچہ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بارش کے دوران نقل و حرکت کم کریں۔

لاذقیہ کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ سیلاب سے دیہاتوں اورقصبوں میں کھیتوں اور مویشیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، جب کہ شہر میں القنجرہ کے علاقے، الجمہوریہ اسٹریٹ، "پروجیکٹ بی"، الزقزقانیہ، الازہری اسکوائر اور الرمل الجنوبی میں کاروں اور درجنوں زیریں منزلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ (...)

پیر-09 شعبان 1445ہجری، 19 فروری 2024، شمارہ نمبر[16519]