یمن میں اقوام متحدہ کے مشن کی تجدید

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ (اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے)
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ (اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے)
TT
20

یمن میں اقوام متحدہ کے مشن کی تجدید

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ (اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے)
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ (اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے)

کل پیر کے روز اقوام متحدہ میں برطانوی مشن نے اعلان کیا کہ سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر یمن میں الحُدیدہ معاہدے کی حمایت کے لیے اقوام متحدہ کے اجازت نامے کو مزید ایک سال کے لیے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ مشن نے اپنے "ٹوئٹر" اکاؤنٹ پر کہا کہ اس اجازت نامے کی مدت کو بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا مشن یمن کے مغربی ساحل پر جنگ بندی کی حمایت جاری رکھے گا۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمن کی تازہ ترین صورتحال اور امن کی کوششوں کے بارے میں بتایا کہ یمنی باشندے اقوام متحدہ کی جنگ بندی کے معاہدے کے خٹم ہونے کے باوجود ملک میں تنازعہ کے آغاز کے بعد سے نسبتاً طویل پُرسکون دور سے گزر رہے ہیں۔

گرنڈبرگ نے اشارہ کیا کہ بچوں اور مسلح تنازعات پر اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی نے "بچوں کے حق میں سنگین خلاف ورزیوں، ان کے قتل، انہیں معذور کرنے اور انہیں مسلح تنظیموں میں بھرتی کرنے کے واقعات کو 40 فیصد تک کم کرنے میں مدد کی"، لیکن اس میں مزید پیشرفت کی ضرورت ہے۔ (...)

منگل-23 ذوالحج 1444 ہجری، 11 جولائی 2023، شمارہ نمبر[16296]



عراق میں 2025 کی پارلیمنٹ کے نقشے میں السودانی کے لیے ایک اہم حصہ

نوری المالکی اور عمار الحکیم گزشتہ دسمبر میں بلدیاتی انتخابات میں شرکت کے دوران (اے ایف پی)
نوری المالکی اور عمار الحکیم گزشتہ دسمبر میں بلدیاتی انتخابات میں شرکت کے دوران (اے ایف پی)
TT
20

عراق میں 2025 کی پارلیمنٹ کے نقشے میں السودانی کے لیے ایک اہم حصہ

نوری المالکی اور عمار الحکیم گزشتہ دسمبر میں بلدیاتی انتخابات میں شرکت کے دوران (اے ایف پی)
نوری المالکی اور عمار الحکیم گزشتہ دسمبر میں بلدیاتی انتخابات میں شرکت کے دوران (اے ایف پی)

عراق میں حکمران اتحاد نے 2025 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے شیعہ نشستوں کا نقشہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے اور تین معتبر ذرائع کے مطابق، تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم محمد شیاع السودانی ایک تہائی سے زیادہ شیعہ نشستوں کے ساتھ ایک مضبوط اتحاد کی قیادت کریں گے۔

ان ذرائع میں سے ایک نے "الشرق الاوسط" کو بتایا کہ "کوآرڈینیشن فریم ورک" کے ذریعے کیے گئے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر شیعہ جماعت کو اتنی ہی نشستیں حاصل ہوں گی جو اکتوبر 2023 میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حاصل کی تھیں۔ جب کہ السودانی کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے باوجود بھی اگلی پارلیمنٹ میں تقریباً 60 نشستیں ملنے والی ہیں۔

دریں اثنا، مطالعہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ وزیر اعظم نے گزشتہ مہینوں کے دوران شیعہ قوتوں کے ساتھ لچکدار اتحاد حاصل کر لیا ہے۔ جب کہ ایک دوسرے ذریعہ نے کہا کہ "فریم ورک، السودانی کے اس وزن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔" مطالعہ کے مطابق، السودانی کے اتحاد میں "گزشتہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے 3 گورنرز شامل ہیں جو کوآرڈینیشن فریم ورک کی چھتری سے مکمل طور پر نکل چکے ہیں۔" تیسرے ذریعہ نے وضاحت کی کہ السودانی کے دیگر اتحادی مختلف قوتوں کا مرکب ہیں، جو "تشرین" احتجاجی تحریک سے ابھرے ہیں، یا ایسی ابھرتی ہوئی قوتیں ہیں کہ جن کی کبھی پارلیمانی نمائندگی نہیں رہی، یا وہ ایران کی قریبی پارٹیاں ہیں جنہوں نے مقامی انتخابات میں شاندار نتائج حاصل کیے تھے۔ (...)

جمعہ-06 شعبان 1445ہجری، 16 فروری 2024، شمارہ نمبر[16516]