یمن میں اقوام متحدہ کے مشن کی تجدید

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ (اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے)
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ (اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے)
TT

یمن میں اقوام متحدہ کے مشن کی تجدید

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ (اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے)
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ (اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے)

کل پیر کے روز اقوام متحدہ میں برطانوی مشن نے اعلان کیا کہ سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر یمن میں الحُدیدہ معاہدے کی حمایت کے لیے اقوام متحدہ کے اجازت نامے کو مزید ایک سال کے لیے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ مشن نے اپنے "ٹوئٹر" اکاؤنٹ پر کہا کہ اس اجازت نامے کی مدت کو بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا مشن یمن کے مغربی ساحل پر جنگ بندی کی حمایت جاری رکھے گا۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمن کی تازہ ترین صورتحال اور امن کی کوششوں کے بارے میں بتایا کہ یمنی باشندے اقوام متحدہ کی جنگ بندی کے معاہدے کے خٹم ہونے کے باوجود ملک میں تنازعہ کے آغاز کے بعد سے نسبتاً طویل پُرسکون دور سے گزر رہے ہیں۔

گرنڈبرگ نے اشارہ کیا کہ بچوں اور مسلح تنازعات پر اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی نے "بچوں کے حق میں سنگین خلاف ورزیوں، ان کے قتل، انہیں معذور کرنے اور انہیں مسلح تنظیموں میں بھرتی کرنے کے واقعات کو 40 فیصد تک کم کرنے میں مدد کی"، لیکن اس میں مزید پیشرفت کی ضرورت ہے۔ (...)

منگل-23 ذوالحج 1444 ہجری، 11 جولائی 2023، شمارہ نمبر[16296]



مصر اور ترکیا "نئے صفحہ" کا آغاز کر رہے ہیں

سیسی قاہرہ میں اردگان سے ملاقات کرتے ہوئے (مصری ایوان صدر)
سیسی قاہرہ میں اردگان سے ملاقات کرتے ہوئے (مصری ایوان صدر)
TT

مصر اور ترکیا "نئے صفحہ" کا آغاز کر رہے ہیں

سیسی قاہرہ میں اردگان سے ملاقات کرتے ہوئے (مصری ایوان صدر)
سیسی قاہرہ میں اردگان سے ملاقات کرتے ہوئے (مصری ایوان صدر)

مصر اور ترکیا نے دوطرفہ تعلقات کی راہ میں ایک "نئے دور" کا آغاز کیا اور کل (بروز بدھ)، قاہرہ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب اردگان کے درمیان ایک سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ جب کہ اردگان نے گذشتہ 11 سال سے زائد عرصے میں پہلی بار مصر کا دورہ کیا ہے۔

السیسی نے اردگان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ "یہ دورہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا صفحہ کھولتا ہے، جو ہمارے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دے گا۔" انہوں نے آئندہ اپریل میں ترکی کے دورے کی دعوت قبول کرنے کا اظہار کیا۔

جب کہ دونوں صدور کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ اور علاقائی سطح پر مشترکہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوئی۔

اردگان نے وضاحت کی کہ بات چیت میں غزہ کی جنگ سرفہرست رہی۔ جب کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت پر "قتل عام کی پالیسی اپنانے" کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ غزہ پر بمباری نیتن یاہو کی طرف سے ایک "جنونی فعل" ہے۔ دوسری جانب، السیسی نے زور دیا کہ انہوں نے ترک صدر کے ساتھ غزہ میں "جنگ بندی" کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ (...)

جمعرات-05 شعبان 1445ہجری، 15 فروری 2024، شمارہ نمبر[16515]