سوڈانی فوج نے خرطوم میں آرمرڈ کور کو مکمل کنٹرول کرنے تصدیق کر دی

سوڈانی فوج اور "ریپڈ سپورٹ فورسز" کے درمیان ہونے والی پچھلی جھڑپوں کے دوران دھواں اٹھ رہا ہے (اے پی)
سوڈانی فوج اور "ریپڈ سپورٹ فورسز" کے درمیان ہونے والی پچھلی جھڑپوں کے دوران دھواں اٹھ رہا ہے (اے پی)
TT

سوڈانی فوج نے خرطوم میں آرمرڈ کور کو مکمل کنٹرول کرنے تصدیق کر دی

سوڈانی فوج اور "ریپڈ سپورٹ فورسز" کے درمیان ہونے والی پچھلی جھڑپوں کے دوران دھواں اٹھ رہا ہے (اے پی)
سوڈانی فوج اور "ریپڈ سپورٹ فورسز" کے درمیان ہونے والی پچھلی جھڑپوں کے دوران دھواں اٹھ رہا ہے (اے پی)

آج منگل کے روز سوڈانی فوج نے کہا ہے کہ "ریپڈ سپورٹ" فورسز کے حملے کو پسپا کرنے کے بعد وہ اب خرطوم میں آرمرڈ کور کو مکمل طور پر کنٹرول کر رہی ہیں۔

"عرب ورلڈ نیوز ایجنسی" کی طرف سے نقل کیے گئے فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے: "آرمرڈ کور ایک بار پھر باغی حمیدتی کی ملیشیا کے حملے کی ناکام کوشش کو شکست دینے میں کامیاب رہی، جو بھاری نقصان اٹھانے کے بعد فرار ہو گئے۔ ہماری افواج اس وقت آرمرڈ کور پر اپنا مکمل کنٹرول بڑھا رہی ہیں اور وہ کسی بھی نئی کوشش کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔"

اس سے پہلے دن میں، سوڈان میں "ریپڈ سپورٹ" فورسز کے کمانڈر کی مشاورتی کمیٹی کے رکن عیسیٰ القونی نے کہا کہ فورسز نے خرطوم کے جنوب میں الشجرہ کے فوجی علاقے میں فوج کی آرمڈ کور کے "بڑے حصے" کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

انہوں نے "عرب ورلڈ نیوز ایجنسی" کو دیئے گئے بیانات میں مزید کہا کہ انہوں نے "مشرقی اور شمال مشرقی حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا جب کہ جنوب مغربی حصہ ابھی باقی ہے۔" انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ جھڑپیں "آج یا کل ختم ہو جائے گی"۔ (...)

بدھ-07 صفر 1445ہجری، 23 اگست 2023، شمارہ نمبر[16339]



غزہ... بمباری، بھوک اور نقل مکانی

غزہ کی پٹی کے وسط میں دیر البلح کو ہفتے کے روز مزید اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا (ای پی اے)
غزہ کی پٹی کے وسط میں دیر البلح کو ہفتے کے روز مزید اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا (ای پی اے)
TT

غزہ... بمباری، بھوک اور نقل مکانی

غزہ کی پٹی کے وسط میں دیر البلح کو ہفتے کے روز مزید اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا (ای پی اے)
غزہ کی پٹی کے وسط میں دیر البلح کو ہفتے کے روز مزید اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا (ای پی اے)

فلسطینی عوام "الاقصی فلڈ" کے آغاز سے ہی دردناک حالات سے گزر رہی ہے اور غزہ کے باشندوں کو ہلاکتوں کی تعداد اور اندیشوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہر روز جن تین چیزوں کا سامنا ہے وہ بمباری، بھوک اور نقل مکانی ہے۔ دریں اثناء قیدیوں کے تبادلے کے عوض جنگ بندی کی تلاش جاری ہے تاکہ چاہے عارضی ہی سہی لیکن سب کی پریشانیاں حل ہوں، جب کہ رفح کراسنگ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے امدادی سامان کے قافلے داخل ہو سکتے ہیں لیکن مہاجرین اس کے ذریعے فرار نہیں ہو سکتے۔

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے پرتشدد اسرائیلی بمباری کی گونج میں ایک بار پھر اس تشدد کے چکر سے نکلنے کا واحد راستہ دو ریاستی حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو قرار دیا، جب کہ اس بمباری میں درجنوں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ انہوں نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں کہا: "مجھے یقین ہے کہ آنے والے مہینوں میں اسرائیل کے لیے ایک غیر معمولی موقع ہے کہ وہ اس چکر کو ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے ختم کر دے" (...)

اتوار-08 شعبان 1445ہجری، 18 فروری 2024، شمارہ نمبر[16518]