مراکش نے زلزلے کے بعد چار ممالک کی جانب سے امداد کی پیشکش قبول کر لی

مراکش امزمیز میں ہلاکت خیز زلزلے کے بعد ایمرجنسی اہلکار ایک لاش لے کر جا رہے ہیں (رائٹرز)
مراکش امزمیز میں ہلاکت خیز زلزلے کے بعد ایمرجنسی اہلکار ایک لاش لے کر جا رہے ہیں (رائٹرز)
TT

مراکش نے زلزلے کے بعد چار ممالک کی جانب سے امداد کی پیشکش قبول کر لی

مراکش امزمیز میں ہلاکت خیز زلزلے کے بعد ایمرجنسی اہلکار ایک لاش لے کر جا رہے ہیں (رائٹرز)
مراکش امزمیز میں ہلاکت خیز زلزلے کے بعد ایمرجنسی اہلکار ایک لاش لے کر جا رہے ہیں (رائٹرز)

اتوار کی شام مراکش کی وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق مراکش نے چار ممالک، برطانیہ، اسپین، قطر اور متحدہ عرب امارات، کی طرف سے امداد کی پیشکشوں کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تباہ کن زلزلے کے اثرات سے نمٹا جا سکے جس میں کم سے کم 2122 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرانسیسی پریس ایجنسی کی جانب سے رپورٹ کردہ مراکش کی وزارت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ: "مراکش کے حکام نے خاص طور پر اس دوران دوست ممالک اسپین، قطر، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے امداد کی پیشکشوں کو قبول کر لیا ہے تاکہ تلاش اور بچاؤ کی ٹیموں کے گروپ کو متحرک کیا جا سکے۔"

وزارت نے مزید کہا کہ ان نازک حالات سے متعلق ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد "یہ ٹیمیں آج اتوار کے روز اپنے مراکش کے ہم منصبوں کے ساتھ میدان عمل میں داخل ہو گئیں ہیں۔"

بیان میں اشارہ دیا گیا ہے کہ ممکنہ ضروریات کے پیش نظر بیرونی امداد کے حصول میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، "اور ہر مرحلے کی ضروریات کے مطابق دیگر دوست ممالک کی جانب سے تعاون کی پیشکشوں کا سہارا لے سکتا ہے۔" وزارت نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مملکت مراکش دنیا کے مختلف خطوں سے یکجہتی کے تمام اقدامات کا خیرمقدم کرتی ہے۔

پیر-26 صفر 1445ہجری، 11 ستمبر 2023، شمارہ نمبر[16358]



طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
TT

طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)

گزشتہ دو دنوں کے دوران شام کے ساحل سے ٹکرانے والے طوفان اور شدید بارشوں کے بعد لاذقیہ شہر میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سڑکیں اور درجنوں عمارتوں کی زیریں منزلیں زیر آب آ گئیں جس سے کچھ سرکاری اور نجی سہولیات معطل ہو کر رہ گئیں۔

شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں لاذقیہ کے گورنر انجینئر عامر اسماعیل ہلال نے اتوار کے روز اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا۔

لاذقیہ سٹی کونسل کے سربراہ حسین زنجرلی نے ایک مقامی ریڈیو کو ایک بیان میں کہا کہ اتوار کا دن لاذقیہ کے لیے انتہائی مشکل ہے اور "ہم نے اس کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے،" چنانچہ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بارش کے دوران نقل و حرکت کم کریں۔

لاذقیہ کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ سیلاب سے دیہاتوں اورقصبوں میں کھیتوں اور مویشیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، جب کہ شہر میں القنجرہ کے علاقے، الجمہوریہ اسٹریٹ، "پروجیکٹ بی"، الزقزقانیہ، الازہری اسکوائر اور الرمل الجنوبی میں کاروں اور درجنوں زیریں منزلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ (...)

پیر-09 شعبان 1445ہجری، 19 فروری 2024، شمارہ نمبر[16519]