مراکش کے وزیر انصاف پارلیمانی کمیٹی کے سامنے متبادل تعزیرات پیش کر رہے ہیں

مراکش کے وزیر انصاف عبداللطیف وہبی (الشرق الاوسط)
مراکش کے وزیر انصاف عبداللطیف وہبی (الشرق الاوسط)
TT

مراکش کے وزیر انصاف پارلیمانی کمیٹی کے سامنے متبادل تعزیرات پیش کر رہے ہیں

مراکش کے وزیر انصاف عبداللطیف وہبی (الشرق الاوسط)
مراکش کے وزیر انصاف عبداللطیف وہبی (الشرق الاوسط)

مراکش کے وزیر انصاف عبداللطیف وہبی نے کہا ہے کہ سزا کے متبادل قانون کے مسودے کا مقصد جیلوں میں قیدیوں کی بھیڑ کو کم کرنا ہے، کیونکہ ملک میں قیدیوں کی تعداد تقریباً 1 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے تقریباً نصف احتياطی زير حراست ہیں۔

كل منگل کے روز وہبی نے ایوان نمائندگان (پارلیمنٹ کا پہلا ایوان) کی انصاف اور قانون سازی کمیٹی کے سامنے قید کی متبادل سزاؤں سے متعلق اپنے مسودہ قانون کو پیش کرنے کے دوران وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان سزاؤں میں عمومی مفادات، الیکٹرانک نگرانی اور الکحل، منشیات، اور سائیکو ٹراپک مادوں کی لت میں پڑے افراد کی بحالی یا علاج کے اقدامات کو لازم قرار دینا شامل ہے۔

متبادل سزاؤں میں دیگر پابندی کے اقدامات بھی شامل ہیں، جیسے کہ متاثرہ شخص کے قریب نہ جانا، پولیس سروسز اور رائل جنڈرمیری کی نگرانی کے تابع ہونا اور تربیت کے مرحلے سے گزرنا وغیرہ۔ علاوہ ازیں، بحالی انصاف کے فریم ورک میں جرم کے نتیجے میں نقصان کا ازالہ بھی سزا میں شامل کیا گیا ہے۔

مسودہ قانون میں "قید کی سزا خریدنے" کی شرط کے بارے میں ایک شق مسودہ قانون سے نکال لی گئی ہے، جسے حکومت نے پہلے منظور کیا تھا۔ وہبی نے کہا کہ اس شق کے تحت جسے سزا سنائی گئی ہو اسے اجازت ہے کہ وہ قید کے ایام خرید سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ، "قید کا ہر دن 3,000 درہم (300 ڈالر) میں خریدا جا سکتا ہے۔" (...)

بدھ-28 صفر 1445ہجری، 13 ستمبر 2023، شمارہ نمبر[16360]



طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
TT

طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)

گزشتہ دو دنوں کے دوران شام کے ساحل سے ٹکرانے والے طوفان اور شدید بارشوں کے بعد لاذقیہ شہر میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سڑکیں اور درجنوں عمارتوں کی زیریں منزلیں زیر آب آ گئیں جس سے کچھ سرکاری اور نجی سہولیات معطل ہو کر رہ گئیں۔

شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں لاذقیہ کے گورنر انجینئر عامر اسماعیل ہلال نے اتوار کے روز اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا۔

لاذقیہ سٹی کونسل کے سربراہ حسین زنجرلی نے ایک مقامی ریڈیو کو ایک بیان میں کہا کہ اتوار کا دن لاذقیہ کے لیے انتہائی مشکل ہے اور "ہم نے اس کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے،" چنانچہ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بارش کے دوران نقل و حرکت کم کریں۔

لاذقیہ کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ سیلاب سے دیہاتوں اورقصبوں میں کھیتوں اور مویشیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، جب کہ شہر میں القنجرہ کے علاقے، الجمہوریہ اسٹریٹ، "پروجیکٹ بی"، الزقزقانیہ، الازہری اسکوائر اور الرمل الجنوبی میں کاروں اور درجنوں زیریں منزلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ (...)

پیر-09 شعبان 1445ہجری، 19 فروری 2024، شمارہ نمبر[16519]