لبنانیوں اور بے گھر شامیوں کے درمیان تشدد کے بڑھتے کا خدشہ

طرابلس کی بندرگاہ پر پناہ گزینوں کی ایک کشتی کو بچا لیا گیا

لبنان کے شمال میں وادی خالد کے علاقے میں شام کے ساتھ لبنان کی سرحد پر دو لبنانی فوجی بے گھر شامیوں کی دراندازی کی نگرانی کر رہے ہیں (اے ایف پی)
لبنان کے شمال میں وادی خالد کے علاقے میں شام کے ساتھ لبنان کی سرحد پر دو لبنانی فوجی بے گھر شامیوں کی دراندازی کی نگرانی کر رہے ہیں (اے ایف پی)
TT

لبنانیوں اور بے گھر شامیوں کے درمیان تشدد کے بڑھتے کا خدشہ

لبنان کے شمال میں وادی خالد کے علاقے میں شام کے ساتھ لبنان کی سرحد پر دو لبنانی فوجی بے گھر شامیوں کی دراندازی کی نگرانی کر رہے ہیں (اے ایف پی)
لبنان کے شمال میں وادی خالد کے علاقے میں شام کے ساتھ لبنان کی سرحد پر دو لبنانی فوجی بے گھر شامیوں کی دراندازی کی نگرانی کر رہے ہیں (اے ایف پی)

لبنان میں شامی افراد کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے خلاف سیاسی اور میڈیا کی سطح پر احتجاج میں اضافے کی روشنی میں بے گھر شامیوں کے ساتھ بار بار پرتشدد واقعات کے بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔

شام میں اقتصادی بحران سے بچنے کے لیے لبنان آنے والے بے گھر شامیوں کی نئی لہروں کی آمد کے سبب حالیہ دنوں میں شامی پناہ گزینوں کے خلاف لبنانیوں کی مہم اور خوف میں اضافہ ہوا ہے۔ جب کہ سیاسی شخصیات کو اکسایا کہ وہ انہیں"وجود کے خطرے" سے خبردار کریں اور حکومت کو انتظامی اور حفاظتی اقدامات کرنے پر مجبور کریں۔ جب کہ یہ مہم مشرقی لبنان کے ایک علاقے میں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں حکام نے شامی باشندوں کے غیر قانونی طور پر چلنے والے سو سے زائد اداروں کو بند کر دیا ہے۔ (...)

ہفتہ-22 ربیع الاول 1445ہجری، 07 اکتوبر 2023، شمارہ نمبر[16384]



طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
TT

طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)

گزشتہ دو دنوں کے دوران شام کے ساحل سے ٹکرانے والے طوفان اور شدید بارشوں کے بعد لاذقیہ شہر میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سڑکیں اور درجنوں عمارتوں کی زیریں منزلیں زیر آب آ گئیں جس سے کچھ سرکاری اور نجی سہولیات معطل ہو کر رہ گئیں۔

شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں لاذقیہ کے گورنر انجینئر عامر اسماعیل ہلال نے اتوار کے روز اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا۔

لاذقیہ سٹی کونسل کے سربراہ حسین زنجرلی نے ایک مقامی ریڈیو کو ایک بیان میں کہا کہ اتوار کا دن لاذقیہ کے لیے انتہائی مشکل ہے اور "ہم نے اس کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے،" چنانچہ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بارش کے دوران نقل و حرکت کم کریں۔

لاذقیہ کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ سیلاب سے دیہاتوں اورقصبوں میں کھیتوں اور مویشیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، جب کہ شہر میں القنجرہ کے علاقے، الجمہوریہ اسٹریٹ، "پروجیکٹ بی"، الزقزقانیہ، الازہری اسکوائر اور الرمل الجنوبی میں کاروں اور درجنوں زیریں منزلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ (...)

پیر-09 شعبان 1445ہجری، 19 فروری 2024، شمارہ نمبر[16519]