لیبیا کے رہنما حل نہیں چاہتے ہیں: اقوام متحدہ کے ایلچی کا بیان

باتیلی نے ان پر انتخابات میں دلچسپی نہ رکھنے کا الزام لگایا

اقوام متحدہ کے ایلچی عبداللہ باتیلی (اقوام متحدہ مشن)
اقوام متحدہ کے ایلچی عبداللہ باتیلی (اقوام متحدہ مشن)
TT

لیبیا کے رہنما حل نہیں چاہتے ہیں: اقوام متحدہ کے ایلچی کا بیان

اقوام متحدہ کے ایلچی عبداللہ باتیلی (اقوام متحدہ مشن)
اقوام متحدہ کے ایلچی عبداللہ باتیلی (اقوام متحدہ مشن)

لیبیا میں اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ عبداللہ باتیلی نے لیبیا کے رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ اپنے ملک کے بحران کا حل نہیں چاہتے اور " ملتوی شدہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا اجرا نہیں چاہتے۔"

باتیلی نے فرانسیسی میگزین "جون افریک" کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ لیبیا میں بیرونی مداخلت "یقیناً ایک حقیقت" ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ "بیرونی مداخلت کا بہانہ لیبیا کے حکام کے لیے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کا ایک مناسب ذریعہ ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر رہنما انتخابات اور استحکام کی واپسی نہیں چاہتے اور جو چیز ان کے لیے اہم ہے وہ ہے تیل سے غیر متوقع کمائی اور اس تک رسائی کو یقینی بنانا جاری رکھنا۔"

باتیلی کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے "حماس" اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والے تنازعہ نے "پہلے ہی سے مشکل مشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔" انہوں نے نشاندہی کی کہ ان کا لیبیا کی سرزمین سے سوڈان، چاڈ اور نائجر کے عسکریت پسندوں کو نکالنے کا منصوبہ "سوڈان میں جھڑپیں شروع ہونے کے بعد پیچیدہ ہوگیا ہے۔"

اقوام متحدہ کے ایلچی نے "لیبیا میں ایک متفقہ حکومت، صدر اور پارلیمنٹ کے لیے انتخابات کرانے کی ضرورت پر بات کی، جس کے بغیر ملک مزید ٹوٹ پھوٹ کی طرف بڑھے گا۔" (…)

پیر-13 جمادى الأولى 1444 ہجری، 27 نومبر 2023، شمارہ نمبر[16435]



طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
TT

طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)

گزشتہ دو دنوں کے دوران شام کے ساحل سے ٹکرانے والے طوفان اور شدید بارشوں کے بعد لاذقیہ شہر میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سڑکیں اور درجنوں عمارتوں کی زیریں منزلیں زیر آب آ گئیں جس سے کچھ سرکاری اور نجی سہولیات معطل ہو کر رہ گئیں۔

شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں لاذقیہ کے گورنر انجینئر عامر اسماعیل ہلال نے اتوار کے روز اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا۔

لاذقیہ سٹی کونسل کے سربراہ حسین زنجرلی نے ایک مقامی ریڈیو کو ایک بیان میں کہا کہ اتوار کا دن لاذقیہ کے لیے انتہائی مشکل ہے اور "ہم نے اس کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے،" چنانچہ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بارش کے دوران نقل و حرکت کم کریں۔

لاذقیہ کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ سیلاب سے دیہاتوں اورقصبوں میں کھیتوں اور مویشیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، جب کہ شہر میں القنجرہ کے علاقے، الجمہوریہ اسٹریٹ، "پروجیکٹ بی"، الزقزقانیہ، الازہری اسکوائر اور الرمل الجنوبی میں کاروں اور درجنوں زیریں منزلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ (...)

پیر-09 شعبان 1445ہجری، 19 فروری 2024، شمارہ نمبر[16519]