امریکی بحریہ نے "سینٹرل پارک" پر کنٹرول کرنے والوں کو گرفتار کر لیا

یمنی حکومت نے نیویگیشن کو حوثی خطرے کی سنگینی سے خبردار کیا ہے (ایکس)
یمنی حکومت نے نیویگیشن کو حوثی خطرے کی سنگینی سے خبردار کیا ہے (ایکس)
TT

امریکی بحریہ نے "سینٹرل پارک" پر کنٹرول کرنے والوں کو گرفتار کر لیا

یمنی حکومت نے نیویگیشن کو حوثی خطرے کی سنگینی سے خبردار کیا ہے (ایکس)
یمنی حکومت نے نیویگیشن کو حوثی خطرے کی سنگینی سے خبردار کیا ہے (ایکس)

گزشتہ روز، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے حوثیوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے خلیج عدن میں امریکی نیول ڈسٹرائر "یو ایس ایس میسن" کی طرف دو بیلسٹک میزائل داغے، جو کہ تجارتی بحری جہاز "سینٹرل پارک" پر  نامعلوم مسلح افراد کے قبضے کے بعد مدد کے لیے دی جانے والی کال کا جواب دینے پر ہے۔ امریکی کمانڈ نے اعلان کیا کہ دونوں میزائل یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کے زیر کنٹرول علاقوں سے داغے گئے تھے، اور وہ "دونوں بحری جہازوں سے تقریباً دس سمندری میل دور خلیج عدن میں گرے تھے۔"

امریکی حکام نے اسرائیل اور "حماس" کے درمیان جنگ کے دائرہ کار میں ممکنہ توسیع سے متعلق علاقائی خدشات کی روشنی میں اس واقعے کو حوثیوں کی جانب سے اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کے خلاف کیے جانے والے حملوں سے جوڑا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے جاری بیان میں کہا کہ یہ تجارتی بحری جہاز فاسفورک ایسڈ کی کھیپ لے جا رہا تھا جب اس کے عملے نے "نامعلوم جانب سے حملے" کے بعد مدد کی درخواست کی، تو خلیج عدن اور صومالیہ کے ساحل کے قریب کام کرنے والی نیول ڈسٹرائر "یو ایس ایس میسن"، جو گائیڈڈ میزائلوں، امدادی کشتیوں اور بحری قزاقوں کے خلاف ٹاسک فورس سے لیس تھی، نے مدد کی کال کا جواب دیا اور مسلح افراد سے "جہاز کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔" جس پر امریکی بحریہ کی آمد کے ساتھ ہی "پانچ مسلح افراد نے جہاز سے اتر کر اپنی چھوٹی کشتی کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کی۔" جس پر امریکی ڈسٹرائر نے "حملہ آوروں کا تعاقب کیا، جس پر وہ بالآخر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے۔" جب کہ امریکی بحریہ نے حملہ آوروں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

منگل-14 جمادى الأولى 1444 ہجری، 28 نومبر 2023، شمارہ نمبر[16436]



طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
TT

طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)

گزشتہ دو دنوں کے دوران شام کے ساحل سے ٹکرانے والے طوفان اور شدید بارشوں کے بعد لاذقیہ شہر میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سڑکیں اور درجنوں عمارتوں کی زیریں منزلیں زیر آب آ گئیں جس سے کچھ سرکاری اور نجی سہولیات معطل ہو کر رہ گئیں۔

شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں لاذقیہ کے گورنر انجینئر عامر اسماعیل ہلال نے اتوار کے روز اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا۔

لاذقیہ سٹی کونسل کے سربراہ حسین زنجرلی نے ایک مقامی ریڈیو کو ایک بیان میں کہا کہ اتوار کا دن لاذقیہ کے لیے انتہائی مشکل ہے اور "ہم نے اس کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے،" چنانچہ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بارش کے دوران نقل و حرکت کم کریں۔

لاذقیہ کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ سیلاب سے دیہاتوں اورقصبوں میں کھیتوں اور مویشیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، جب کہ شہر میں القنجرہ کے علاقے، الجمہوریہ اسٹریٹ، "پروجیکٹ بی"، الزقزقانیہ، الازہری اسکوائر اور الرمل الجنوبی میں کاروں اور درجنوں زیریں منزلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ (...)

پیر-09 شعبان 1445ہجری، 19 فروری 2024، شمارہ نمبر[16519]