عراق نے صوبہ کردستان میں ایرانی حملوں کے بعد "جارحیت" کی مذمت کی اور تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا

اسلام آباد نے ایران کی جانب سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے

ہنگامی خدمات کے افراد عراقی شہر اربیل میں ایک گھر کا ملبہ ہٹا رہے ہیں جسے 16 جنوری 2024 کو ایرانی میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا (اے پی)
ہنگامی خدمات کے افراد عراقی شہر اربیل میں ایک گھر کا ملبہ ہٹا رہے ہیں جسے 16 جنوری 2024 کو ایرانی میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا (اے پی)
TT

عراق نے صوبہ کردستان میں ایرانی حملوں کے بعد "جارحیت" کی مذمت کی اور تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا

ہنگامی خدمات کے افراد عراقی شہر اربیل میں ایک گھر کا ملبہ ہٹا رہے ہیں جسے 16 جنوری 2024 کو ایرانی میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا (اے پی)
ہنگامی خدمات کے افراد عراقی شہر اربیل میں ایک گھر کا ملبہ ہٹا رہے ہیں جسے 16 جنوری 2024 کو ایرانی میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا (اے پی)

بغداد نے اپنی خودمختاری کے خلاف "جارحیت" کی مذمت کی اور عراق اور ہمسایہ ملک شام کے صوبہ کردستان میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں سے حملوں کے بعد اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے تہران میں واپس بلا لیا ہے۔ فرانسیسیپریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے حالیہ حملوں کے بعد اسے اپنی سلامتی کے "دفاع کا جائز حق" قرار دیا ہے۔

کل منگل کی شام "ڈیووس" میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے دوران عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے کہا کہ "اربل میں ایرانی حملہ عراق کے خلاف واضح جارحیت ہے۔" انہوں نے عراقی خبر رساں ایجنسی (واع) کے ذریعہ رپورٹ کردہ بیانات میں مزید کہا: "یہ عمل یقیناً ایک خطرناک پیش رفت ہے جو عراق اور ایران کے درمیان مضبوط تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہے۔"

دوسری جانب ایرانی "پاسداران انقلاب" نے پیر اور منگل کی درمیانی شب اعلان کیا کہ اس نے "خطے میں ایران مخالف دہشت گرد گروہوں کے جاسوسی کے اڈوں اور جمع ہونے کے مراکز" کو نشانہ بنایا ہے۔ اس نے عراقی صوبہ کردستان میں "صیہونی موساد کے ہیڈ کوارٹر" اور شام میں تنظیم "داعش" کے جمع ہونے کے مراکز کو تباہ کرنے کی "تصدیق" کی۔ (...)

بدھ-05 رجب 1445ہجری، 17 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16486]



امیر کویت نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی

کویت کی قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کا منظر (کونا)
کویت کی قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کا منظر (کونا)
TT

امیر کویت نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی

کویت کی قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کا منظر (کونا)
کویت کی قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کا منظر (کونا)

کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح نے نئے امیری عہد میں سیاسی بحران پھوٹنے کے بعد کل (جمعرات) شام جاری کردہ ایک امیری فرمان کے ذریعے قومی اسمبلی (پارلیمنٹ) کو تحلیل کر دیا۔ خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے ایک نمائندے کی جانب سے "امیر کی شخصیت کے لیے نامناسب" جملے کے استعمال کرنے اور پھر نمائندوں کا اس کی رکنیت منسوخ کرنے سے انکار کرنے کے بعد حکومت نے پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔

امیری فرمان میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ کی تحلیل "قومی اسمبلی کی جانب سے آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان بوجھ کر اہانت آمیز نامناسب جملوں کا استعمال کرنے کی بنیاد پر آئین اور اس کے آرٹیکل 107 کا جائزہ لینے کے بعد کی گئی ہے، جیسا کہ وزیر اعظم نے وزارتی کابینہ کی منظوری کے بعد اس کی تجویز دی تھی۔"

کویتی آئینی ماہر ڈاکٹر محمد الفیلی نے "الشرق الاوسط" کو وضاحت کی کہ قومی اسمبلی کو امیری فرمان کے مطابق تحلیل کرنا "آئینی تحلیل شمار ہوتا ہے کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 107 کی شرائط کے مطابق ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ تحلیل کا حکم نامہ "جائز ہے اور وجوہات حقیقی طور پر موجود ہیں۔" جہاں تک نئے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا تعلق ہے تو الفیلی نے کہا کہ "انتخابات سے متعلق حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا، جب کہ یہ کافی ہے کہ اس حکم نامے میں آئین کا حوالہ دیا گیا ہے اور آئین یہ تقاضہ کرتا ہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد دو ماہ کے اندر انتخابات کروائے جائیں۔" (...)

جمعہ-06 شعبان 1445ہجری، 16 فروری 2024، شمارہ نمبر[16516]