امریکی اور برطانوی افواج کا یمن میں حوثی باغیوں پر حملوں کا ایک نیا دور

یمن میں حوثی ٹھکانوں پر امریکہ کے گزشتہ حملے کے بعد ہونے والا ایک دھماکہ (روئٹرز)
یمن میں حوثی ٹھکانوں پر امریکہ کے گزشتہ حملے کے بعد ہونے والا ایک دھماکہ (روئٹرز)
TT

امریکی اور برطانوی افواج کا یمن میں حوثی باغیوں پر حملوں کا ایک نیا دور

یمن میں حوثی ٹھکانوں پر امریکہ کے گزشتہ حملے کے بعد ہونے والا ایک دھماکہ (روئٹرز)
یمن میں حوثی ٹھکانوں پر امریکہ کے گزشتہ حملے کے بعد ہونے والا ایک دھماکہ (روئٹرز)

تین امریکی ذمہ داروں نے کل پیر کے روز کہا کہ امریکی اور برطانوی افواج نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا ایک نیا دور شروع کیا ہے، جو کہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی آمدورفت کو نشانہ بنانے والے ایران کے اتحادی حوثی گروپ کے خلاف تازہ اقدام ہے۔

حوثی گروپ کے ایک رہنما عبدالقادر المرتضی نے "ایکس" پلیٹ فارم پر کہا کہ اس وقت دارالحکومت صنعا امریکی بمباری کی زد میں ہے۔ لییکن انہوں نے فوری طور پر تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔

جب کہ امریکی بحریہ کی سینٹرل کمانڈ نے اس سے قبل حوثی گروپ کے اس دعوے کی تردید کی کہ انھوں نے خلیج عدن میں ایک امریکی نیول جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ حوثیوں کا "بحری جہاز (اوشین گیس) پر مبینہ کامیاب حملہ کرنے کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے،" اور بحری جہاز کے گزرنے کے دوران وہ مسلسل اس سے رابطے میں تھے۔(...)

منگل-11 رجب 1445ہجری، 23 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16492]



"اسرائیل کے بھاری بم" بیروت پر اڑ رہے ہیں

جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی والدہ کل سرحدی قصبے القنطرہ میں جنازے کے دوران (اے پی)
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی والدہ کل سرحدی قصبے القنطرہ میں جنازے کے دوران (اے پی)
TT

"اسرائیل کے بھاری بم" بیروت پر اڑ رہے ہیں

جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی والدہ کل سرحدی قصبے القنطرہ میں جنازے کے دوران (اے پی)
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی والدہ کل سرحدی قصبے القنطرہ میں جنازے کے دوران (اے پی)

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے خبردار کیا ہے کہ ان کی افواج "حزب اللہ" پر نہ صرف سرحد سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر بلکہ بیروت کی جانب 50 کلومیٹر کے فاصلے تک بھی حملہ کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا، لیکن اسرائیل "جنگ نہیں چاہتا۔" انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اس وقت لبنان کی فضاؤں پر پرواز کرنے والے فضائیہ کے طیارے دور دراز کے اہداف کے لیے بھاری بم لے جاتے ہیں۔"

خیال رہے کہ گیلنٹ کا یہ انتباہ بڑے پیمانے پر ان اسرائیلی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں 24 گھنٹوں کے دوران 18 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جن میں "حزب اللہ" کے 7 جنگجو اور بچوں سمیت 11 عام شہری شامل تھے، ان سلسلہ وار فضائی حملوں میں سے ایک حملے میں شہر النبطیہ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں اسرائیل نے "حزب اللہ"کے ایک فوجی قیادت اور اس کے ہمراہ دو عناصر کو ہلاک کیا۔

اسی حملے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ "بدھ کو رات کے وقت الرضوان یونٹ کے مرکزی کمانڈر علی محمد الدبس کو ان کے نائب حسن ابراہیم عیسیٰ اور ایک اور شخص کے ساتھ ختم کر دیا گیا ہے۔"

دوسری جانب، "حزب اللہ" نے کل جمعرات کی شام اعلان کیا کہ اس نے "النبطیہ اور الصوانہ میں قتل عام کا یہ ابتدائی ردعمل" دیا ہے، خیال رہے کہ اس کے جنگجوؤں نے "کریات شمونہ" نامی اسرائیلی آبادی پر درجنوں کاتیوشا راکٹوں سے حملہ کیا تھا۔ (...)

جمعہ-06 شعبان 1445ہجری، 16 فروری 2024، شمارہ نمبر[16516]