اسرائیل نے "غزہ کی ایک سرنگ میں" سنوار کی مبینہ فوٹیج شائع کر دی

غزہ کی پٹی میں "حماس" کے رہنما یحییٰ السنوار کی 2022 میں لی گئی ایک تصویر (ڈی پی اے)
غزہ کی پٹی میں "حماس" کے رہنما یحییٰ السنوار کی 2022 میں لی گئی ایک تصویر (ڈی پی اے)
TT

اسرائیل نے "غزہ کی ایک سرنگ میں" سنوار کی مبینہ فوٹیج شائع کر دی

غزہ کی پٹی میں "حماس" کے رہنما یحییٰ السنوار کی 2022 میں لی گئی ایک تصویر (ڈی پی اے)
غزہ کی پٹی میں "حماس" کے رہنما یحییٰ السنوار کی 2022 میں لی گئی ایک تصویر (ڈی پی اے)

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے ایک ویڈیو کلپ دکھایا، جس میں ایک عورت اور ایک آدمی کو بچوں کے ساتھ سرنگ میں چلتے ہوئے دکھایا گیا، اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ تحریک "حماس" کے رہنما یحییٰ سنوار اور ان کا خاندان ہے۔

اس ویڈیو میں ایک شخص کو پیچھے سے دکھایا گیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ وہ سنوار ہی ہیں، جو گذشتہ 7 اکتوبر کو اسرائیلی مقامات پر تحریک حماس کے حملوں کے بعد سے سامنے نہیں آئے۔

ایک اسرائیلی سیکورٹی اہلکار نے اس سے پہلے نیوز نیٹ ورک "سی این این" کو بتایا کہ اسرائیلی فوج کے پاس "حماس" کے نصب کردہ نگرانی کے کیمروں کے ویڈیو کلپ موجود ہیں، اور مبینہ طور پر ان ویڈیوز میں السنوار کو غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کے نیچے ایک سرنگ کے اندر اپنی بیوی، بچوں اور ایک دوسرے شخص کے ساتھ دکھایا گیا ہے جس کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

خیال رہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی ہے، جیسا کہ "سی این این" نے اسرائیلی فوج سے اس پر تبصرہ کرنے کو کہا ہے لیکن اسے ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ دوسری جانب  اسرائیلی اخبار "ماریو" نے اشارہ کیا ہے کہ وہ شخص جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ سنوار ہے "بظاہر اچھی حالت میں ہے اور اس کسی زخم کے آثار نہیں ہیں۔" (...)

بدھ-04 شعبان 1445ہجری، 14 فروری 2024، شمارہ نمبر[16514]



طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
TT

طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)

گزشتہ دو دنوں کے دوران شام کے ساحل سے ٹکرانے والے طوفان اور شدید بارشوں کے بعد لاذقیہ شہر میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سڑکیں اور درجنوں عمارتوں کی زیریں منزلیں زیر آب آ گئیں جس سے کچھ سرکاری اور نجی سہولیات معطل ہو کر رہ گئیں۔

شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں لاذقیہ کے گورنر انجینئر عامر اسماعیل ہلال نے اتوار کے روز اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا۔

لاذقیہ سٹی کونسل کے سربراہ حسین زنجرلی نے ایک مقامی ریڈیو کو ایک بیان میں کہا کہ اتوار کا دن لاذقیہ کے لیے انتہائی مشکل ہے اور "ہم نے اس کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے،" چنانچہ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بارش کے دوران نقل و حرکت کم کریں۔

لاذقیہ کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ سیلاب سے دیہاتوں اورقصبوں میں کھیتوں اور مویشیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، جب کہ شہر میں القنجرہ کے علاقے، الجمہوریہ اسٹریٹ، "پروجیکٹ بی"، الزقزقانیہ، الازہری اسکوائر اور الرمل الجنوبی میں کاروں اور درجنوں زیریں منزلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ (...)

پیر-09 شعبان 1445ہجری، 19 فروری 2024، شمارہ نمبر[16519]