غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنانا گھناؤنا جرم ہے: سعودی ولی عہد

انہوں نے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور امن کی راہ بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز (واس)
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز (واس)
TT

غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنانا گھناؤنا جرم ہے: سعودی ولی عہد

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز (واس)
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز (واس)

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے کل بدھ کے روز تصدیق کی کہ مملکت سعودی عرب غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنانے کو ایک گھناؤنا جرم اور وحشیانہ جارحیت قرار دیتی ہے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

سعودی ولی عہد نے جاپان کے وزیر اعظم فومیو کیشیدا اور یونان کے وزیر اعظم کریاکوس میتسوتاکس سے موصول ہونے والی دو فون کالوں کے دوران غزہ میں جاری فوجی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے خطے اور دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام پر اس کے خطرناک اثرات سے بچنے کے لیے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ انہوں نے فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے امن کی راہ کی بحالی کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

جمعرات-04 ربیع الثاني 1445ہجری، 19 اکتوبر 2023، شمارہ نمبر[16396]



ریاض میں "بین الاقوامی دفاعی نمائش" نے 7 ارب ڈالر کے خریداری کے معاہدے حاصل کر لیے

ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
TT

ریاض میں "بین الاقوامی دفاعی نمائش" نے 7 ارب ڈالر کے خریداری کے معاہدے حاصل کر لیے

ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)

رواں سال سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن میں 26 ارب ریال (تقریباً 7 بلین ڈالر) کے 61 خریداری کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جب کہ اس نمائش میں 116 ممالک کی نمائندگی کرنے والے 773 نمائش کنندگان اور 441 سرکاری وفود نے شرکت کی اور اس کا تیسرا ایڈیشن 2026 میں منعقد ہونے کی امید ہے۔

نمائش کو 106 ہزار افراد نے دیکھا اور نمائش کے ایام میں 73 معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں 17 صنعتی شرکت کے معاہدے بھی شامل ہیں۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز کے گورنر انجینئر احمد بن عبدالعزیز العوہلی نے نمائش کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تقریب خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی سرپرستی اور ولی عہد، وزیر اعظم اور جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شہزادہ محمد بن سلمان کی مسلسل دلچسپی اور پیروی کی بدولت "اس نمائش کو یہ عظیم کامیابی حاصل ہوئی کہ دنیا کی بہترین دفاعی اور سیکورٹی نمائشوں میں سے ایک بنی اور یہ سعودی قیادت کی جانب سے اسے خاص اہتمام دینے کی عکاس ہے۔ علاوہ ازیں یہ (وژن 2030) کے مطابق فوجی خدمات اور آلات پر 50 فیصد اخراجات کو مقامی بنانے کے ضمن میں ہے۔" (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]