2024 کے بجٹ میں فعال اقدامات سعودی عرب کو بیرونی اقتصادی جھٹکوں سے بچا رہے ہیں

شعبہ جاتی اسٹریٹجک منصوبوں پر عمل درآمد کو تیز کرنے کے لیے توسیعی اخراجات 333 بلین ڈالر سے زیادہ ہیں

عالمی معیشت کو درپیش چیلنجوں اور پیش رفتوں کی روشنی میں سعودی عرب کے 2024 کے بجٹ کی توقعات مثبت شمار ہوتی ہیں (SPA)
عالمی معیشت کو درپیش چیلنجوں اور پیش رفتوں کی روشنی میں سعودی عرب کے 2024 کے بجٹ کی توقعات مثبت شمار ہوتی ہیں (SPA)
TT

2024 کے بجٹ میں فعال اقدامات سعودی عرب کو بیرونی اقتصادی جھٹکوں سے بچا رہے ہیں

عالمی معیشت کو درپیش چیلنجوں اور پیش رفتوں کی روشنی میں سعودی عرب کے 2024 کے بجٹ کی توقعات مثبت شمار ہوتی ہیں (SPA)
عالمی معیشت کو درپیش چیلنجوں اور پیش رفتوں کی روشنی میں سعودی عرب کے 2024 کے بجٹ کی توقعات مثبت شمار ہوتی ہیں (SPA)

سعودی عرب نے چیلنجوں اور پیشرفت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی معاشی صلاحیت کو بڑھانے اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کیے ہیں، جس کی عکاسی 2024 کے بجٹ کے ابتدائی بیان میں موجود اعداد و شمار سے ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے مملکت نے تقریباً 1.2 ٹریلین ریال (333 بلین ڈالر) کے اخراجات کے مقابلے میں 1.1 ٹریلین ریال (312 بلین ڈالر) کی آمدنی کا ہدف رکھا ہے۔ جب کہ خسارے کے حد 79 بلین ریال (21 بلین ڈالر) ہے، جو مجموعی ملکی پیداوار کا 1.9 فیصد ہے۔

غیر تیل کا شعبہ مملکت میں اقتصادی ترقی کا ایک بنیادی محرک شمار ہوتا ہے، جو اقتصادی تنوع کے عمل میں تیل سے ہٹ کر مملکت کی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ سعودی عرب کے "وژن 2030" کے سب سے نمایاں اہداف میں سے ایک ہے۔

وزارت خزانہ نے ایک بیان میں توقع کی ہے کہ رواں سال کے دوران غیر تیل کی سرگرمیاں 5.9 فیصد کی شرح سے بڑھیں گی، خیال رہے کہ یہ شرح رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں 6.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی چینل "فاکس نیوز" کے ساتھ اپنے حالیہ انٹرویو میں نشاندہی کی کہ مملکت کی مجموعی ملکی پیداوار میں غیر تیل کے شعبے کے تعاون کی ترقی قابل ذکر ہے  جس نے سعودی معیشت کو 2022 کے دوران "جی 20 " ممالک میں سب سے زیادہ شرح نمو حاصل کرنے میں مدد کی، اور اس شعبے نے گروپ کے اندر بھی 2023 میں دوسری بلند ترین شرح نمو ریکارڈ کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ "ہمارے اور بھارت کے درمیان مقابلے کی فضا پیدا کرتا ہے جو کہ ایک اچھا مقابلہ ہے۔" (...)

پیر-17 ربیع الاول 1445ہجری، 02 اکتوبر 2023، شمارہ نمبر[16379]



وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے
TT

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

"پروفیشنل ایکریڈیٹیشن" پروگرام کے تحت وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے ان تمام منتخب کردہ ممالک کا احاطہ مکمل کر لیا ہے جو پروفیشنل ویریفکیشن کے ذریعے مزدور برآمد کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی افرادی قوت کی مہارتوں کے میعار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ ہدف وزارت خارجہ کے تعاون سے 160 ممالک میں مکمل کر لیا گیا۔

یہ سروس کابینہ کی قرارداد نمبر 195 کے مطابق ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مملکت میں داخل ہونے سے پہلے تارکین وطن افراد کے پاس سعودی لیبر مارکیٹ کے عین مطابق قابل اعتماد تعلیمی قابلیت، عملی تجربہ اور اپنے پیشے میں مہارت ہو۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" سروس کی مرکزی توجہ افرادی قوت کی متعلقہ شعبے میں میعاری تعلیمی قابلیت اور انتہائی ہنر مند پیشوں میں مہارت ہے۔ واضح رہے کہ یہ عمل سعودی عرب کے منظور شدہ درجہ بندی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے جیسے کہ سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف پروفیشنز اور سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف ایجوکیشن لیولز اینڈ سپیشلائیزیشنز ۔ یہ سروس مکمل طور پر خودکار ہے اور یہ آسان اور تیز رفتار طریقہ کار کے ساتھ ایک مرکزی پلیٹ فارم کے ذریعے پیشہ ورانہ تصدیق کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کے دوران وزارت برائے انسانی وسائل نے 1,007 پیشوں کا احاطہ مکمل کیا جس میں دنیا بھر سے تمام مزدور برآمد کرنے والے ممالک شامل ہیں ۔ وزارت متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر انتہائی ہنر مند پیشوں کو شامل کرنے کا کام جاری رکھے گی جو سعودی یونیفائیڈ کلاسیفکیشن کے مطابق گروپ 1-3 میں آتے ہیں۔ ان پیشوں میں انجنیئرنگ، صحت سے منسلک شعبے بھی شامل ہیں۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی کا مقصد اس سروس کے ذریعے لیبر مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنا، لیبر مارکیٹ میں ملازمتوں اور سروسز کو بہتر بنانا اور پیداوار کے معیار کو بڑھانا ہے۔