عدن میں وباء سےمتاثر ہوکر ایک عورت اور تین بچے ہلاک - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

عدن میں وباء سےمتاثر ہوکر ایک عورت اور تین بچے ہلاک

یمن میں (ہیضہ) کے خطرے پر عالمی انتباہ

1-2

عدن: بسام قاضی

عدن میں فرسٹ ایڈ حفظان صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیجر اور ایمرجنسی وارڈ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد مصطفی راجنمار نے بتایا کہ اب تک اجمالی حالات جو درج کئے جا چکے ہیں ایک سو پانچ کیسیز ہیں جو تیز دست اور قئ کے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کی یہ کولیرا کے باعث ہو سکتے ہیں، ان میں پانچ حالات مثبت ہیں جبکہ عدن میں سات حالات درج کئے گئے ہیں ۔

الشرق الاوسط کو دئے گئے بیان میں راجمنار نے وضاحت کی کہ سب سے زیادہ اموات شمالی عدن کے دار سعد اور بساتین میں 40٪ درج کی گئی ہیں- اسکے بعد ضلع معلا میں 30  فیصد اور باقی تعداد کریتر، تواہی، اور بریقہ میں پائی گئیں ہیں، جبکہ ضلع خور مکسر میں کوئی کیس درج نہیں کیا گیا.

اسہال کے متاثرین کے علاج کی خدمت کے لئے پانچ مراکز تیار کئے گئے ہیں اور وہ جمہوریہ ہسپتال جسمیں 20 بیڈ کی گنجائش ہے، اور پچاس خارجی بیڈکی ایمبولینس کے قدیم عمارت میں اور صداقۃ ہسپتال میں 25 ، اسی طرح صلاح الدین ہسپتال میں   30 بیڈ کو تیار کیا گیا ہے، ساحلی پٹی سے آنے والے کسی بھی کیس سے نمٹنے کی تیاری بھی کرلی گئی ہے-

آخری سنٹر 6 بیڈ کی تیاری کے ساتھ جسکو بعد میں بیس تک بڑھایا جا سکتا ہے، انہوں نے اشارہ کیا کہ تیز دست قئ کے ساتھ ایک کیس کا پتہ چلا ہے جس کے ٹیسٹ کے لئے نمونے لئے گئے ہیں، اور وہ ایک ایتھوپیا کے مہاجر کا ہے جو بریقہ کے پولس کے پاس نظر بند ہے.

عالمی ادارۂ صحت نے باور کرایا کہ یمن میں ہیضے سے نمٹنے کیلئے 22  ملین ڈالر سے زیادہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس نے اپنے ایک بیان میں وضاحت کی کہ یمن میں ہیضے سے متاثر ہونے کے شبہ میں 340 کیسز درج کئے جا چکے ہیں، ان میں تعز، حدیدہ، صنعاء، بیضاء، عدن اور لحج کے گورنریٹس میں 18  کیسز درج کئے گئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے اس جانب اشارہ کیا جیسا کہ حکومتی نیوز ایجنسی (سبا) نے نقل کیا ہے کہ سات ملین اور چھ لاکھ سے زائد لوگ ہیضے سے متاثرہ خطوں میں رہتے ہیں، جبکہ تقریبا تین ملین بے گھر لوگ اس بیماری کے خطرے سے دوچار ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت اور اس کے شراکت دار اداروں نے آج بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ یمن میں ہیضہ کی وباء کو مزید پھیلنے سے بچانے اور اس پر روک لگانے کے لئے فوری مدد فراہم کرے، اس نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ یمن میں جاری جنگ کی وجہ سے یمن کی دو تہائی آبادی اور خاص طور پر شہر میں بسنے والے لوگوں کو صاف پانی اور نکاسئی آب کی سہولت میسر نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ہیضے کے خطرے میں اضافہ ہوا ہے۔

پرسوں صوبہ عدن کے گورنر ہاؤس میں گورنر میجر جنرل عیدروس الزبیدی کی صدارت میں گورنریٹ میں ہیضے کی وبا کا سامنا کرنے کے لئے اجلاس منعقد ہوا تھا، اس دوران گورنر نے اضلاع کے ذمہ داران اور پانی، ماحولیات اور نظافت وصفائی کے فنڈ کے ذمہ داروں کو فورا ہیضہ سے متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا، اسی طرح گورنر نے اس بیماری سے نمٹنے اور اس پر قابو پانے کے لئے فوری طور پر ایک مالی کوریج مہیا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

"الشرق الاوسط” کے ہیضے سے متاثر لوگوں کے لئے ہنگامی طور پر بنائے گئے ہنگامی مراکز، اور (مستشفی الصداقہ) نامی اسپتال جو بچوں کے لئے خاص ہے، اسی طرح بڑی عمر کے لوگوں کے لئے مخصوص (جمہوریہ اسپتال) کے میدانی دورے کے دوران ڈاکٹر نبیلہ سیف جو کہ ہیڈ آف نرسنگ ہوم اور مستشفی الصداقہ میں ایمرجنسی امور کی ذمہ دار ہیں، انہوں نے کہا کہ گزشتہ کل شام تک جو حالات مرکز کو ملی ہیں، ان میں انفیکشن کے 84 کیسز ہیں اور 4 لوگوں کی موت درج کی گئی ہے، جن میں ایک ہی خاندان کے ایک 29 سالہ خاتون اور 8 سے 12 سال کے درمیان عمر کے 3  بچے شامل ہیں-

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>