پرائیویٹ سیکٹر ہی معاشی ترقی کی طرف لے جائگا: العساف - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

پرائیویٹ سیکٹر ہی معاشی ترقی کی طرف لے جائگا: العساف

اصلاحی اقدامات نے ملک کا دیوالیہ نکلنے سے اسے بچا لیا: سعودی عرب

4-1

الشرق الاوسط: ریاض

سعودی عرب کے وزیر مالیات ابراہیم العساف نے باور کرایا کہ تیل کے نرخ اپنی پرانی سطح پر کبھی واپس نہیں آسکتے، انہوں نے یقین دہانی کی کہ توانائی کے ذرا‏ئع تبدیل ہو چکے ہیں، ماضی کے برعکس زیادہ ٹھوس نئے اقدامات کرنا ضروری ہے، انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ پرائیویٹ سیکٹر ہی ملک کے لئے اقتصادی نمو کی قیادت کر سکتا ہے۔ دوسری جانب سول سروس کے وزیر خالد العرج نے یقین دہانی کی کہ ملازمین کی تنخواہوں سے چھیڑ خانی کرنے کی کوئی نیت نہیں پائی جاتی۔

دونوں وزراء العساف اور العرج مالیاتی کمیٹی کے سکریٹری محمد التویجری جو نائب وزیر اقتصاد اور منصوبہ بندی کے منصب پر بھی فائز ہیں کی باتیں بعض الاؤنسز میں کمی یا ختم کرنے، رواں ہجری سال میں باؤنس کو عارضی طور پر بند کرنے کے لئے سرکاری فیصلوں کے بعد ہمہ پہلو معاشرتی گفتگو کی روشنی میں سامنے آئی ہیں۔

وزراء کی یہ بات ‏mbc چینل کے پروگرام (آٹھـ) کے ذریعے سعودی عرب کی حکومت کے اس مالیاتی پالیسی کی روش میں کئی (اصلاحی فیصلوں) کے بعد سامنے آئی جو (2030ء کے سعودی تصور) پر عملدرآمد کے منصوبوں کے ساتھـ مطابقت رکھتی ہے۔ اس سے نمو میں بڑھوتری، خرچ کو کنٹرول اور خرچ میں رہنمائی ملے گی۔ العساف نے انکشاف کیا کہ یہ تمام کاروائیاں مطلوب تھیں لیکن تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اور تیزی سے کمی نے وظائف اور باؤنسز پر نظر ثانی میں جلدی کرنے میں حصہ ڈالا اس طرح بعض کو ختم کردیا گیا اور بعض میں کمی کی گئی ۔

اناؤنسر داود الشریان کے ساتھـ گفتگو میں بحران کے آنے سے پہلے شاہی فنڈ قائم کرنے میں وزارت مالیہ کی سوچ تاخیر سے سامنے آنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں العساف نے کہا: ہمارے پاس شاہی فنڈ کی مانند عمومی سرمایہ کاری کا فنڈ موجود ہے اور اس کا راس المال 200 ارب ڈالر ہے، اس کے علاوہ دیگر فنڈ بھی ہیں جو سعودی معیشت میں کام آتے ہیں، گزشہ عرصے کے دوران احتیاطی زر مبادلہ کی صورت حال اور عام قرض کو کم کرنے، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے مابین توازن پیدا کیا جا چکا ہے، اس عرصہ میں ایک متوازن منصوبہ زیر غور تھا ۔

عمومی سرمایہ کاری کے فنڈ کے رول کے بارے میں سوال کے جواب میں العساف نے کہا یہ داخلی ہے لیکن (ہمارے پاس اتنا زر مبادلہ ہے جو کرنسی کے اداروں میں گردش کرتا رہے اس سے ہونے والا فائدہ دوسرے فنڈز کے برابر ہے اور ان کے فوائد ہرگز کافی نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ دوسرے ملکوں مثال کے طورپر کویت اور ناروے کے شاہی فنڈ سے اس کی مثال نہیں دی جا سکتی، کسی بھی ترقی یافتہ معیشت کے لئے ضروری ہے کہ اصلاحی کاروائیاں کی جائیں۔

نائب وزیر اقتصاد اور منصوبہ بندی نے اس جانب اشارہ کیا کہ 2008ء میں جب عالمی منڈیوں میں گراوٹ کا واقعہ پیش آیا تو تمام مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود تھے اس عرصہ میں بعض کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی، جو سعودی معیشت کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ التویجری نے مزید کہا کہ کرنسی کے ادارے کی سرمایہ کاری کا رول صرف سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ ان کے پاس سعودی ریال کی حمایت اور بینکوں کے راس المال نیز سال میں سرمایہ کاری کی ضمانت کے لئے احتیاطی انتظام بھی ہے، کرنسی کے ادارے کا رول سرمایہ کاری کے فنڈز سے مختلف ہوتا ہے جو بحرانوں میں بھی کام آتا ہے۔

وزیر العساف نے کہا یہ کہنا مشکل ہے کہ ماضی میں منصوبے غیر سنجیدہ تھے لیکن ان میں توسیع کی ضرورت تھی بالخصوص تعلیمی سیکٹر میں ترقیاتی منصوبہ کا تسلسل جاری رہا۔ انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ بجٹ سے ہٹ کر بھی اخراجات ہوتے رہے جو دس فیصد سے نہیں بڑھے۔

الاؤنسز کی کمی کے فیصلوں کے پس منظر کے بارے میں سول سروس کے وزیر العرج نے کہا: کاموں میں کامیابی پیش رفت ہے لیکن اس میں سرکاری سیکٹر ڈھیلا رہا، انہوں نے مزید کہا کہ تیس سالوں سے زائد عرصہ میں الاؤنسز پر نظر ثانی نہیں کي گئی، انہوں نے وضاحت کی کہ سرکاری سیکٹر میں ملازمین کی تعداد دس سال پہلے سات لاکھـ پچاس ہزار تھی جبکہ آج یہ تعداد بارہ لاکھـ سے بھی تجاوز کر چکی ہے، اس میں لائحہ کے ملازمین اور فوج کے اہلکار شامل نہیں ہیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>