انتخابات کے اعلان سے کچھ مہینے پہلے ہی نامزدگی کی منصوبنہ بندی تاکہ سن 2008ء کے انتخابات میں ہوئی غلطیوں سے بچا سکے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

انتخابات کے اعلان سے کچھ مہینے پہلے ہی نامزدگی کی منصوبنہ بندی تاکہ سن 2008ء کے انتخابات میں ہوئی غلطیوں سے بچا سکے

«وکیلیکس» نے ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کی تفصیلات کا راز فاش کیا

5-1

واشنگٹن: "الشرق الاوسط”

سن 2014ء کے شروع میں ہی صحافت نے پوری طرح یہ راز فاش کردیا تھا کہ امریکہ کے اگلے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی کے لئے ہیلری کلنٹن کو امیدوار بنانے کی صورت میں روبی موک کو انتخابی حملوں کا ذمہ دار بنایا جائے گا، اور واقعہ یہ ہیکہ اس نے انتخابی حملوں کی ذمہ داریوں کا کام انتخابات سے 34 مہینے پہلے سے ہی شروع کردیا تھا۔  ہیلری کلنٹن کے قریبی مساعد شیریل میلز کو تیس سالہ روبی موک نے فروری سن 2014ء میں اپنے ایک خط میں کلنٹن اور اوباما کے قربیی لوگوں کے درمیان خیالات میں اختلافات کے حوالے سے ایک مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: "لمبے عرصہ تک اسٹراٹیجک ذرائع ابلاغ کے حوالے سے آپ کی بات صحیح ہے، واقعہ یہ ہیکہ ہمیں اس قسم کی چیزوں کا جواب دینا ضروری ہے”۔

 کلنٹن نے اپریل سن 2015ء تک اپنے سیاسی عزائم کو راز میں رکھتے ہوئے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ انھیں سوچنے کے لئے وقت درکار ہے۔ اور یہ کے وہ اپنی پوتی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ «وکیلیکس»‎‎ نے اپنی سائٹ پر کچھ دنوں پہلے کلنٹن کے انتخابی مہم کے چیف جان بوڈیسٹا کے ایمیل اکاؤنٹ سے ہزاروں پیغامات چوری سے حاصل کئے اور انھیں عام کیا۔ ان پیغامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس بار کتنی باریک بینی سے انتخابی مہم کو ترتیب دیا گیا ہے تاکہ سن 2008ء کی غلطیوں کا اعادہ نہ ہوسکے جس میں اوباما کے سامنے کلنٹن کو شکست کا سامنا اس لئے کرنا پڑا تھا کہ اس کے انتخابی مشن واضح نہیں تھے نیز فیصلہ سازی کا عمل مبہم تھا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے لوگ روس کو الیکٹرانک پیغامات کی قزاقی کا ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں اور ان کے مطابق روس کا مقصد کلنٹن کو پریشان کرنا اور ان کے حریف ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت کرنا ہے۔ روبی موک نے اتنخابی مہم کے حوالے سے 22 مارچ سن 2014ء کو سیاسی حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا تھا، اور یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ صدارت کے لئے پہلی خاتون کے طور پر کلنٹن کو امیدوار نامزد کرنا ایک غلطی ہوگی۔ اور اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نے امیدوار کلنٹن کو یہ رائے دی تھی کہ اسے اپنی انتخابی مہم میں متوسط طبقہ کے دفاع کے حوالے سے زیادہ زور صرف کرنا ہے، اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کلنٹن نے ایک سال بعد اسے اپنے انتخابی مہم کے  لئےاہم شعار بنایا۔ اور باوجودیکہ کلنٹن نے اس وقت اپنے سیاسی عزائم کا باقاعدہ کوئی اعلان نہیں کیا تھا لیکن اس کے سیاسی ایجنڈے خریدے ہوئے انتخابی اور سیاسی تقریروں سے بھرئے پڑے تھے، اور پھر وزیر خارجہ بنتے ہی اس نے اپنے سیاسی مذکرات پر مبنی کتاب کی ترویج شروع کردی۔ اور روبی موک نے مارچ میں ضروری قانونی ہیکل کو ڈیزائن کیا تاکہ رسمی طور پر امیدواری کے اعلان سے پہلے بیس مطلوبہ عملے کی ترتیب دی جاسکے نیز ان کی تنخواہوں کا معقول بندوبست ہو۔ وہ اپنے ایک نوٹ میں لکھتا ہے کہ یہ: "انتخابی مہم کے آغاز کے لئے سائٹ بنانے، اور میڈیائی حکمت عملی کو ترتیب دینے پر مشتمل ہے” لیکن یہ ساری انتخابی تیاریاں  4 نومبر 2014ء جو کہ وسط مدتی انتخابات کا دن ہے، سے پہلے مکمل نہیں ہونگی۔

مئی سن 2014ء میں ہیلری کلنٹن نے اپنے قریبی مشیروں کو جمع کیا جنہیں خود نہیں معلوم تھا کہ روبی موک پردے کے پیچھے کلنٹن کی انتخابی مہم میں پوری سرگرمی کے ساتھ مصروف ہے۔ چیریل میلز اسے اپنے ایک بھیجے خط میں لکھتی ہے: "اس گروپ میں ایک میں اور جان بوڈیسٹا ہی ہیں جو تمہاری سرگرمیوں سے واقف ہیں”۔  موسم خزان سن 2014ء میں جہاں ہیلری کلنٹن نے کلی طور پر کانگریس کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کے لئے اپنی حمایت پیش کیا وہیں اس کی تقریروں کو تیار کرنے والے ڈان شویرن نے بیس صفحہ پر مشمتل ایک دستاویز تیار کی جس میں ہیلری کے امیدواری کا جواز پیش کرنے کے لئے تین منظر نامے پیش کئے۔ جس میں سب سے پہلا منظرنامہ یہ تھا کہ حکومت کی خدمات ساری عوام کے لئے یکساں ہو نہ کہ صرف چند مالدار اس سے مستفید ہوں- دوسرا منظر نامہ امریکی خواب کی تجدید سے متعلق تھا، اور تیسرا منظرنامہ وائٹ ہاؤس میں ایک جدوجہد ومقابلہ کرنے والی شخصیت کا وجود۔ اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اس کے لئے ہیلری کی شخصیت مناسب ہوگی۔ ہیلری کا مشیر اسے اپنے ایک خط میں لکھتا ہے: "اصل مقصد یہ ہے کہ تمہاری نظر میں جو اسباب ومحرکات نیز افکار اہم ہوں انھیں پوری آب وتاب کے ساتھ پیش کرو”۔ اس کے بعد ہیلری نے انتخابی گروپ میں ارکان بھرتی کرنے کی رفتار تیز کردی۔ جنوری سن 2015ء میں روبی موک اپنے ایک خط میں وائٹ ہاؤس میں کام کرنے والی جینیفر پالمیری اور کرسٹینا شاکی کی گروپ میں رکنیت پر ہیلری کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنے تبصرہ میں لکھتا ہے: "مبارک ہو! اب تمہارے پاس خبررسانی کی ڈائرکٹر اور اس کی معاون دونوں موجود ہیں اور دونوں ہی پرجوش خاتون ہیں”  اور پھر ان کے تعاون سے میڈیا کی پالیسیاں و حکمت عملیاں شروع کردی گئيں۔ وزارت خارجہ سے آنے والے نیک میریل اپنے ایک مذکرہ میں لکھتا ہے: "اب وقت آگيا ہے کہ کسی معروف صحافی کے قلم سے ایک پرمغز مقالہ شائع ہو”، تاکہ میڈیا کوریج کی توجہ حاصل ہو جو سال کے شروع سے ہی انتخابی امور کے حوالے سے کافی مشتعل ہے۔ اس نے اپنے پیغام میں کئی مشیروں کے نام پیش کئے جنھیں سیاسی مفاد کے لئے منتشر کیا جاسکتا ہے۔ روبی موک لکھتا ہے: "ہمیں معلوم ہے کہ صحافی لوگ انتخابی مہم کے حوالے سے تیاریوں کے بارے میں بہت کچھ لکھیں گے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ ان مقالات کو بہت ہی موثر انداز میں ڈرافٹ کیا جائے”۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>