ادب ميں مستى - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سمیر عطاءالله
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

ادب ميں مستى

سمير عطاء اللہ

ادب كا نوبل ايوارڈ سن 1901ء سے دو قسم كے قلمکاروں كو ديا گيا ہے۔ ايک وہ قلمکار جو بہت مشہور ہيں اس كا نام قارئين كے لئے نيا نہيں ہے، جيسے ہمنغواى، صامويل بيكيت اور ٹاموس مان۔ دوسرے وہ قلمکار جو اپنى زبان كے دائرے سے باہر مشہور نہيں ہيں جيسے بوريس باسترناك، ميخائيل شولوخوف اور نجيب محفوظ-

يہ ايوارڈ اسی كو ديا جاتا ہے جس كے کارناموں كا ترجمہ دوسرى بہت سى زبانوں ميں شروع ہو چکا ہو۔ اور قابلیت واستحقاق کا اندازہ لگانا قاری پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مثال كے طورپر گزشتہ سال بیلا روس كى ايک خاتون ‎ صحافيہ سفيتلانا الكسيفيتش (سیوٹلین الیکزوچ) نوبل انعام لینے میں کامیاب ہوئی، کیونکہ اس نے صحافتی انٹرويو كے فن كو ناول اور تاريخ كا ايک خاص رخ ديا۔ سفيتلانا كے حصول ايوارڈ كے بعد جب اس كى كتابيں منظر عام پر آئيں تو ہم نے ان كتابوں كا شوق ودلچسپى سے مطالعہ كيا، بالخصوص یوکرائن کے چرنوبيل ميں ايٹمى حادثے كا شكارہونے والوں سے متعلق اس كى كتاب كا مطالعہ كيا، جو ہيرو شيما کے بارے میں شائع شدہ تحفوں كے مانند ايک ادبى تحفہ شمار كيا جاتاہے۔

اسى سال اس ايوارڈ سے امريكى سنگر اور گلوكار پوپ ديلان كو بھی نوازا گيا۔

ہميں ساٹھ اور ستر كى دہائیوں ميں اس كے نغمے اور انسانيت كے بارے میں اس كے مواقف پسند آئے۔ ميں ذاتى طور پر يونانى فرانسيسى گلوكارہ نانا موسكورى كے اس واقعہ كو نہيں بھول سكتا جس كا ذكر اس نے اپنى ڈائرى ميں كيا ہے كہ ايک مرتبہ اس نے پوپ ديلان سے پوچھا كہ كيسے وہ اپنے نغمہ كو بلندى كى چوٹى تک پہونچا سكتى ہے، تو اس نے جواب ديا كہ ایک عرب گلوكارہ ام كلثوم ہے اسے غور سے سننے كى كوشش كرو اگرچہ اس كى بات سمجھ ميں نہ بھی آئے۔ سال رواں میں اس کے ايوارڈ جیتنے کے اعلان كے بعد میں نے اس کے بعض اشعار دوبارہ پڑھے ہو سکتا ہے اب تک ميرے علاوہ لاكھوں لوگوں نے بھی پڑھا ہو، مگر اب تک يہ بات میری سمجھ میں نہیں آسكى كہ وہ ايوارڈ جو اس سے پہلے تى اس اليوت، وليام بٹلرييٹس، بابلو نيروڈا اور ٹیگور كو ديا گيا وہ اسے كيسے دے ديا گيا؟

انعام کے لئے سویڈش کمیٹی کے فیصلوں اور اختیارات پر ہمیشہ شکوک یا ملاحظات قائم رہے۔ كبھى اس پر سويت یونین كے زمانےميں سياسى جانبدارى تو كبھى علاقائى یا نسلى تعصب كا الزام لگايا جاتا رہا، ليكن ہميشہ ہم ديكھتے رہے كہ ايوارڈ يافتہ مرد يا خاتون كے پاس استحقاق کی تھوڑى یا بہت چیز ضرور ہوتى ہے۔ جيسا كہ بوريس باسترناك اور الكسندر سولجنتسين كے معاملہ ميں يہ بات عياں ہوتی ہے۔

پوپ ديلان كا حال يہ ہے كہ مذكورہ كميٹى كے ذوق اور اس كى طرف سے ادبى ورثہ كے لئے معيار كے تعیين كو جواز فراہم كرنے كى مسلسل كوششيں جاری ہیں كيونكہ یہ سب جانتے ہیں کہ مكمل ادبى سوانح پر ہى ايوراڈ دیا جاتا ہے جبكہ اس ميں كسى ايک عملى پہلو كى سختى سے پابندى كى گئى ہو۔

دیلان کا عالم یہ ہے کہ اس کی سوانح اور نہ ہی اس کا کارنامہ اس کے مستحق ہیں۔ كيا ادبى دنيا اس حد تک خشک ہوچكى ہے؟ بہتر تو یہ تھا کہ امسال يہ ايوارڈ موقوف كرديا جاتا جيسا كہ چاليس كى دہائى ميں ہوا تھا۔ اس لئے كہ اس سال اہم ادبى واقعہ كا اہل كوئى شخص نہيں تھا۔

سمیر عطاءالله

سمیر عطاءالله

سمیر عطاءالله، روزنامه نگار مطرح، نویسنده و تحلیلگر سیاسی لبنانی است.

More Posts

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>