شہر موصل ميں داعش اور اس جسيى تنظيموں كا سقوط - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
عبد الرحمن الراشد
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

شہر موصل ميں داعش اور اس جسيى تنظيموں كا سقوط

عبد الرحمن الراشد

دو سال قبل سقوط موصل کا دھماکہ خیز واقعہ پيش آيا جس كے ساتھ وزیر اعظم نورى مالكى كو اقتدار سے سبکدوش ہونا پڑا، جن كى مدت صدارت كے خاتمہ كے باوجود دنيا يہ سمجھتى رہى كہ انھيں اقتدار سے باہر كرنا نا ممكن ہے۔

داعش كے ہاتھوں سقوط موصل كى وجہ سے بہت سے دعوے بھی ساقط ہوگئے۔

نورى مالكى جن کی سوچ پر آمريت كا غلبہ تھا انھوں نے يہ گمان کر ليا تھا كہ پارليمينٹ ميں حزب مخالف سنى طاقتوں كو كچل كر، انھيں حكومت سے نكال كر، ان پر تاديبى كارروائى كرنے اور ان كے خيمے جلانے كے لئے انبار ميں اپنى فوج بھيج كروہ دہشت گردى اور مخالفت كو ختم كردينگے، اس طرح انھوں نے عراقى عوام كے ساتھ يہ سودا كيا ۔

سقوط موصل يہ ثابت كرتا ہے كہ نورى مالكى نے صرف اپنے مقاصد كى حصوليابى كے لئے ملک كو آلہ كا ر بنا ركھا تھا۔ يہاں تک كہ اسے دستورى، عوامى اور اخلاقى پابنديوں سے آزاد كرديا تھا۔

سقوط موصل نے نورى مالكى كو مہلک غار كے دہانے تک پہونچاديا جس كے بعد وہ خوفناک زوال كا شكار ہوئے، جب كہ يہ بات واضح ہوچكى تھی كہ خطرات كو محسوس كرنے كے باوجود انھوں نے كوئى اقدام نہيں كيا۔ نا اہل مقربين كو فوج كى قيادت كے لئے مقر ر كرديا اور اس پيمانے پر فساد كى اجازت ديدى جس نے سيكوريٹى اور فوجى اداروں كو اپنى زد ميں لے ليا، نيز سقوط موصل نے انبار جيسے كئى صوبوں ميں سنى مخالفت كے جھوٹے پروپيگنڈہ كو بےنقاب كرديا۔

وہ يہ گمان کرتے تھے كہ انبار كو بعث، قبائلى كونسل اور نقشبندى گروپ كے نيشنل مخالف پارٹی كى ايک جماعت نے آزاد كرايا ہے، لیکن جلد ہی اس بات کا انکشاف ہوگیا کہ اس کے سياہ جھنڈوں اور مجرمانہ طرز عمل كے ساتھ اس کے پس پردہ داعش کا ہاتھ ہے۔ وہ حکومتیں جو ان كى وجہ سے فريب ميں مبتلا تھيں اسی خندق ميں مسلح عراقى حزب اختلاف کی پرجوش عربى آوازیں میں دب گئیں۔ جی ہاں بعث والے ناراض، قبائلى كونسل اور نقشبندى گروپ مخالف رہے۔ جب تک موجودہ نظام عمداً انہیں کنارے لگانے كے درپے رہے گا وہ اس كى پشت ميں كانٹہ بنے رہيں گے، ليكن يہ وہ لوگ نہيں تھے جو رمادى پر اور بعد ميں موصل پر غالب ہوگئے بلكہ دہشت گرد تنظيم داعش نے ان كا صفايا كيا، چنانچہ اس نے متعدد نقشبندى سربراہوں كو ان كے قائد مرحوم صدام حسين کے نائب صدر عزۃ دورى كى منت وسماجت كے باوجود قتل كرديا، جو آڈيو ٹيپ ميں داعش سے تعلق ركھنے والے موصل كے نئے حكام كے شرائط پر نشر كيا گيا، جيسا كہ ان كى التجاء كے باوجود ان ميں سے متعدد حضرات كو تختہ دار پر لٹكايا۔

موصل پر داعش كے قبضہ كے بعد جو جھوٹى افواہيں پھيليں ان ميں وہ بے بنياد بہادرى كى كہانياں بھى تھيں جنہيں ايران نے رائج كيا تھا، جو ناقابل شكست ايرانى قائد قاسم سليمانى كى تصويريں ظاہر ہوتى تھيں، جن كو بيرون ملک ايرانى جنگوں كے انتظام كا ذمہ دار بنايا گيا تھا، جو تقريبا اپنى فوج ميں گھرے ہوئے آزادى موصل كا عہد كر رہے تھے۔ اس واقعہ كو دوسال گزر چكے مگر ہم نے ابھی تک كسى كو شہر ميں داخل ہوتے ہوئے نہيں ديكھا۔

ايرانی فوج اور اس كى مسلح میلیشیا دستے بلا تھكان برسر جنگ ہيں ليكن يہ كوئى فوجى معجزہ نہيں ہے جيسا كہ موجودہ نظام اس كى تشہير كررہا ہے۔ اگر امريكا اور اس كى اتحادى افواج كی رسدى اور انٹليجنس مدد نہ ہوتی تو زبردست نقصانات كے بغير وہ موصل پر قابض ہرگز نہيں ہوپاتے، جيساكہ شام ميں ان كے معركوں كے دوران واضح ہوچكا ہے جہاں دوگاؤں سے متعدد كوششوں، طويل مدت اور زبردست نقصانات كے باوجود محاصرہ ختم نہيں كراسكے۔

اگرچہ وہ روس كى فضائى فوج كى مدد سے شامى شہروں كو تباہ كرنے ميں كامياب ہوگئے، ليكن وہ ان پر قابض نہيں ہوسكے۔ موصل نے يہ ثابت كرديا كہ جنرل سليمانى محض ميڈيا كى ايک كہانى ہے۔ جس نے ايرانى فتوحات كے خرافات كو عریاں کر ديا ہے، اور يہ كہ وہ عراق اور شامی اسد كا حامى ہے۔ آج موصل بين الاقوامى طاقت كے بل بوتے پر آزاد کیا جا رہا ہے جس ميں عراقى فوج پيش پيش ہے اور جس ميں امريكا كى قيادت ميں عالمى اتحاد كى طاقت بھى شامل ہے اور تركى جيسى علاقائى طاقتيں بھى شريک ہيں۔

سقوط موصل نے يہ ثابت كرديا كہ سياسى نظام كى طرح فرقہ وارانہ نظام کا بھى عراق ميں كامياب ہونا ناممکن ہے، ملک كے امن وامان، استحكام اور ترقى كے تحفظ ميں تو بدرجہ اولى ناكام ہوگا۔ موصل ميں متوقع كاميابى كو حاصل كرنے كے لئے فرقہ پرستوں كى كوششيں محض اپنے ماننے والوں كو مطمئن كرنے كا ايک بہانہ ہيں كہ وہ كاميابى كى نمائندگى كرتے ہيں، حالانكہ وہ اس بات سے غافل ہيں كہ دراصل وہى شكست اور دائمى الميہ كا سبب ہے، جو باربار پيش آتا رہے گا جب تک فرقہ پرست دونوں جانب لوگوں كے جذبات اور ان كےمصائب وآلام كا سودا كرتے رہيں گے۔

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>