تشدد کے پھیلاؤ كى روک تهام کیلئے ماہرین نفسیات وذہنى امراض سے تعاون حاصل کرنے کا منصوبہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

تشدد کے پھیلاؤ كى روک تهام کیلئے ماہرین نفسیات وذہنى امراض سے تعاون حاصل کرنے کا منصوبہ

واشنگٹن انتہاء پسندی سے نمٹنے کے لئے نفسیات کے ماہر ڈاکٹروں سے مدد حاصل کریگا

6-2

واشنگٹن: "الشرق الاوسط”

پولس کے نئے منصوبے سے جس کا اعلان کل کیا گیا، ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے نئے منصوبہ کا مقصد امریکی باشندوں کو پر تشدد فکر اپنانے كے سد باب کی غرض سے ماہرین نفسیات، ذہنى امراض كے اساتذہ اور اسپیشلسٹ کو تربيت دینا ہے، یہ ذمہ داری فی الحال سب سے زیادہ قانون کی تنفیذ کرنے والوں پر ہے۔

ا       ٹھارہ صفحات پر مشتمل اس منصوبہ کا شمار پہلی اپ ڈيٹنگ کے طور پر کیا جا رہا ہے جسکو صدر اوباما کی انتظامیہ اپنی پالیسیوں پر جاری کررہی ہے تا كہ تشدد پسند جماعتوں کو پھیلنے سے روکا جا سكے-

جیسے وہ جماعتیں جنہوں نے گزشتہ سال چارلسٹن، ساوٹ کارولینا، سان برنارڈینو، کیلیفورنیا، اورلینڈو، فلوریڈا، نیویارک اور نیو جرسی میں دہشت گرد حملوں پر ابھارا تھا۔

امريكہ ميں تشدّد کے واقعات كا معاملہ صرف خودکش حملوں پر موقوف نہیں ہے، بلكہ بات يہاں تک پہنچى كہ ایک گورے نے، جو نسلی امتیاز پر یقین رکھتا تها، چارلسٹن میں امریکیوں کے ایک تاریخی گرجا گھر کے اندر افریقی نسل کے9 سياه فام اشخاص کو قتل کردیا- اسی طرح كے متعدد حملے اور دھماکے انتہاء پسندوں نے انجام دیئے، مختلف ممالک كے شہری جن كا نشانہ بنے-

دیگر انتہاء پسند اور داعش میں لوگوں كى شموليت كے خاتمے کے لئے وزارت داخلہ کے طریقہ کار كو بہتر بنانے میں تاخیر پر امریکی کانگریس كے جمہوریت پسندوں اور ڈیموکریٹک ممبران نے وزارت داخلہ کے ذمہ داروں سے جواب طلب کیا، ياد رہے كہ کانگریس منصوبے کو مسترد کرنے کی اہليت نہیں ركهتى، لیکن فنڈنگ کو روک سکتی ہے تاکہ اسے عملی جامہ نہ پہنایا جا سکے۔

شہری آزادی کا دفاع کرنے والی تنظیموں نے، جن میں مجلس برائے امريكى اسلامى تعلقات شامل ہے، موجودہ طريقہ كار پر تنقید کی اور کہا کہ اس سے امریکا كے خلاف مسلم معاشرے کے اندر عدم اعتماد کی فضا کو شہ ملتى ہے- وفاقی نمائندے، جنہیں دہشت گردی سے متعلق تحقیقات سونپى گئيں، جدوجہد جاری رکھیں گى- اور نئی پالیسی میں نمائندوں کا دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں واضح کردار ہوگا، جس میں تدريس كے مخصوص اوقات کے بعد ٹریننگ کے پروگرام كى ترتیب بھی شامل ہے، لیکن اس طرح کے پروگرام کا استعمال معلومات اکٹھا کرنے کے لئے نہیں کیا جا سکتا- نئی ہدايات کے مطابق مقامی انتظامیہ، جس میں دماغی اور نفسیات کے ماہرین، عقیدت کی بنیاد پر قائم كرده جماعتيں، اساتذہ اور مقامی لیڈران بھی شامل ہونگے، جو ایسے افراد کا جائزہ لیں گے جن پر فکری تشدد کی طرف رجحان ظاہر ہو- قانون کا نفاذ کرنے والے مقامی ذمہ داران بھی ان دستوں میں شامل ہو سکتے ہیں، لیکن یہ ہدايات وفاقی عدالت کے نمائندوں پر لاگو نہیں ہوں گی-

امریکی حکومت کے ما تحت "شدید انتہاء پسندی خاتمہ مشن” کے ڈپٹى ڈائريکٹر كے قائم مقام جناب بریٹ اسٹیل نے کہا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مداخلتی دستوں کی تشکیل کی کوششیں اگر وفاقی حکومت کی قیادت میں ہو تو کم کامیاب ہونگی، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے كہا کہ معاشرے کے افراد کو ایسے دستوں کی قیادت کرنی چاہیئے-

اس منصوبے کے تحت قانون نافذ کرنے والے کوئی اقدام نہیں کر سکتے جب تک کہ کسی ايسے شخص کو نہ دیکھیں کہ جس سے واقعی كوئى خطرہ ہو، یا کسی جرم کا فوری ارتکاب کرنے پر قادر ہو- اسی طرح یہ منصوبہ وزارت قانون کو ایسے اسٹراٹیجک طريقہ كار اپنانے کی دعوت دیتا ہے جن کے ذریعے تشدد اور انتہاء پسندی سے تائب لوگوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ تشدد کے الزام گرفتار ملزموں كو ملزموں کو نصیحت کرسکیں.

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>