الیكٹرونک دہشتگردی پر واشنگٹن كى نگرانی.. - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
محمدعلی صالح
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

الیكٹرونک دہشتگردی پر واشنگٹن كى نگرانی..

9-2

واشنگٹن: محمد علي صالح

دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ اور ریاست ہائے متحدہ کی حفاظت کی کاروائیاں ٹکنیکی ترقی کے رفتار کے ساتھ ايک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں ، خاص طور پر ان الیکٹرانک آلات کے مشمولات سے متعلق جنہیں غیر ملکی لے کر آتے ہیں۔

امریکہ کی سرزمین پر داخل ہونے کیلئے درخواست دہندگان کے بارے سابقہ معلومات حاصل کرنے کے لئے ان کے فیس بک پیجز کا جائزہ لینے کے بارے میں وزارت داخلہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال  کرنے  کے بارے میں غور کر رہی ہے.

امریکی اخبار اور خبروں کے دیگر سائٹس نے یہ خبر نقل کی ہے کہ امریکہ کے مختلف یونیورسیٹیوں میں پڑھنے والے سعودی طلبہ کو چھٹی ختم ہونے کے بعد امریکہ واپس آنے سے روک دیا گیا ہے، بعض طلبہ کو تو  اچانک یہ معلوم ہوا جب ان کو سعودیہ یا دوسرے یورپی ممالک سے امریکہ جانے والے جہاز میں سوار ہونے سے قبل یا امریکی ایرپورٹ پر پہونچنے کے بعد داخل ہونے سے منع کر دیا گیا،  یہ روک امریکی روزناموں کے مطابق ان کے انٹرنیٹ پر سرگرمیوں، موبائل فون کی نگرانی، شدت پسندی کی دعوت دینے والے ای میل، ویڈیوز اور تصویروں کے پائے جانے کی وجہ سے لگائی گئی ہے، مزید ان اخباروں اور خبروں کی ویب سائٹس نے اسمارٹ فونز اور لیب ٹاپ میں غیر قانونی مشمولات کے پائے جانےکی وجہ سے امریکہ کی یونیورسیٹیوں میں پڑھنے والے کویتی طلبہ کے گرفتار ہونے کی خبر کو نقل کیا ہے، ان میں سے ایک کی عمر انیس سال ہے جس کے فون میں فحش تصویریں ملنے کی وجہ سے  گرفتار کیا گیا ہے، سعودیہ اور کویت میں واقع امریکی سفارتخانوں نے مسافرین کو اپنے موبائلوں اور کمپیوٹروں میں مشتبہ چیزوں کو رکھنے سے خبردار کیا خواہ ان چیزوں كا تعلق انتہاء پسندي سے ہو، يا متنازعہ علاقوں سے ہو، يا دہشت گرد تنظيموں سے ہو، يا کسی بھی قسم کے تشدد سے، اسطرح كی تمام چيزيں ممنوع ہيں۔ دونوں سفارتخانوں میں سے کسی نے بھی خاص طلبہ کے گرفتار ہونے یا امریکہ میں داخلہ سے منع کئے جانے کی تصدیق نہیں کی ہے، دونوں نے کہا کہ وہ ذاتی یا انفرادی حالات سے متعلق گفتگو نہیں کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے اشارہ کیا ہے کہ ممکن ہے کہ ان کے موبائل یا لیب ٹاپ میں متنازعہ علاقوں سے متعلق یا فحش تصویریں یا ویڈیوز موجود ہوں اور جو بھی امریکہ کا رخ کریگا وہ اپنی خود ذاتی چیزوں کا ذمہ دار ہوگا۔ وہ اس بات سے مکمل طور پر مطمئن ہو جائے کہ کہیں یہ چیزیں امریکی قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہی ہیں، لیکن واشنگٹن میں سعودی سفارتخانہ کے شعبہ ثقافت كے ذمہ دار  ڈاکٹر محمد عیسی نے شرق اوسط کے ساتھ ہوئی گفتگو میں کہا کہ امریکہ میں سو سعودی طلبہ کے داخلے پر روک کی جو بات کہی جا رہی ہے وہ صحیح نہیں ہے اور جن لینگویج اسٹوڈنٹس  یا جنکے یونیورسیٹیوں سے متعلق کاغذات ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے، اور مزید یہ کہا کہ طلبہ کو امریکہ میں داخل نہ ہونے دیئے جانے کے اسباب میں سے جو مجھے معلوم ہوا ہے وہ یہ کہ دسیوں طلبہ نے اپنے تعلیمی رہائش یا قیام کی تجدید یا اسکول سے متعلق کاغذات جمع نہیں کیا ہے، یہ وہ اسباب ہیں جن کا تعلق ہجرت سے یا اکیڈمک ہے۔ یہ جو بات کہی جارہی ہیکہ اندھا دھند طریقے سے ان کو روکا گیا ہے وہ غلط ہے اور ایسے طلبہ کی تعداد ساٹھ سے زیادہ نہیں ہے.

ان سعودی طلبہ کے بارے ميں جن کو موبائل میں پرتشدد، انتہاپسند تقریریں اور ممنوعہ مواد رکهنے کی وجہ سے بڑی تعداد میں گرفتار کر لیا گیا ہے، محترم عیسی صاحب نے کہا کہ  یہ ذاتی یا انفرادی حالات ہیں ان کو عموم پر محمول نہیں کیا جا سکتا ہے اور مزید یہ بهی کہا کہ ان کی تعداد بہت کم ہے اور تمام ملکوں کے طلبہ کے لئے یہ تنبیہات آرہی ہیں کہ ان کے الیکٹرانک مشینوں میں کوئی بھی مشتبہ چیزیں نہ ہوں جو تحقیق یا استدعا کا باعث ہو، خواہ وہ خود ہی سے کیوں نہ آجائیں-

محمدعلی صالح

محمدعلی صالح

محمدعلی صالح خبرنگار الشرق الاوسط در واشنگتن دی سی است. وی اخبار مرتبط با امور خاورمیانه را پوشش می دهد.

More Posts

متعلقہ عنوانات‬:, , ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>