نیٹو سے ملک کے الحاق کے مخالفین کی جماعت کے درجنوں افراد مبینہ خفیہ سازش کے جرم میں گرفتار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

نیٹو سے ملک کے الحاق کے مخالفین کی جماعت کے درجنوں افراد مبینہ خفیہ سازش کے جرم میں گرفتار

انتخابات کے بعد مونٹینیگرو کے سیاسی استحکام کو خطرہ

11-1

بودگو ریستا: الشرق الاوسط

 ایسا لگتا ہے کہ مونٹینیگرو کے نئے وزیر اعظم میلو دوکانوفیش کو ملک میں ہوئے حالیہ پارلیمنٹری انتخابات کے بعد اپنے مشن کو پورا کرنے کے لئے حلفاء تلاش کرنے ہونگے۔ پارلیمنٹری انتخابات کے بعد ہی ایک ایسی خفیہ سازش کا پردہ فاش ہوا ہے جس نے ملک کے سیاسی استحکام کے حوالے سے سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ اس خفیہ سازش کے حوالے سے انتخابات کی رات گرفتار بیسوں صرب افراد ابھی تک حراست میں ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ان قید ہونے والے افراد کے لیڈر براتيسلاف ديكيتش جو ایک ریٹائرڈ جنرل ہیں اور درک میں ان کا قیام ہے، بلقان کے علاقہ میں نیٹو کی موجودگی کی سختی سے مخالفت کررہے ہیں۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ مونٹینیگرو نیٹو میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ مونٹینیگرو اتھارٹی نے بتایا کہ قید ہونے والے افراد ایک ایسی سازش میں ملوث پائے گئے جس کا مقصد حکومت کا تختہ پلٹنا تھا۔ اس سازش کا اصل منصوبہ یہ تھا  کہ انتخابات کے نتائج کا انتظار کررہے عوام پر حملہ کردیا جائے، اور پارلیمنٹ پر اپنا قبضہ جماکر نیز ديوكانوفيتش کو نظر بند کرکے انتخابات کے نتائج کے اعلان سے پہلے ہی مخالف پارٹیوں کی جیت کا اعلان کردیا جائے۔ یہ بات مد نظر رہے کہ انتخابات سے پہلے ميلو ديوكانوفيتش، جو اس ملک میں سن 2006ء میں صربیا سے آزادی کے بعد سے حکومت کررہے ہیں، اس سازش کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کی، نہ ہی انھوں نے گزرے اتوار کو ووٹنگ کے دوران اس کی طرف کوئی اشارہ کیا، حتی کہ اپنی سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کی جیت کی مقدار پر روشنی ڈالتے وقت بھی اس حوالے سے کوئی اشارہ نہیں کیا۔ صربی وزیر اعظم الیگزینڈر فوسيتش نے اپنے بیان میں کہا کہ ذاتی طور پر میں سازش ہونے پر یقین نہیں کرتا لیکن کل خبر رساں ایجنسی کو دیئے اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ "میں اس حوالے سے نئی معلومات جاننے اور سننے کا مشتاق ہوں تاکہ یہ بات ثابت ہوسکے کہ (براتيسلاف ديكيتش دہشت گردی کی کاروائی کا منصوبہ بنارہا تھا۔ لیکن اپنی ذاتی معلومات کی روشنی میں اس کی تصدیق مشکل ہے”۔ بلغراد اور اس کے پڑوسی چھوٹے ملک کے مابین اس وقت سے سیاسی بحران اور تعلقات کشیدہ چل رہے ہیں جب سے پودگوریتسا نے کوسووہ کی آزادی کو سن 2008ء میں تسلیم کیا ہے۔ مونٹینیگرو کا نیٹو میں شامل ہونے کا مسئلہ بلغراد کے ساتھ مزید سیاسی توترات کو ہوا دے سکتا ہے جو ماسکو کا روایتی حلیف ہے۔ اصل صورتحال یہ ہےکہ اگر مونٹینیگرو نیٹو میں شامل ہوتا ہے تو مقدونیا کے علاوہ صربیہ سے ملے سارے پڑوسی ممالک نیٹو کے حلفاء میں شامل ہوجائیں گے اور اس طرح نیٹو کا بلقان کے سارے ساحلی علاقوں پر تسلط ہوجائے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ مونٹینیگرو کا نیٹو میں شامل ہونے کے مسئلہ کو ملک کی 640 ہزار آبادی، جن کی اکثریت قدامت پسند افراد پر مشتمل ہے، کے ایک بڑی تعداد کی طرف سے شدید مخالفت درپیش ہے۔ غیر حتمی انتخابی نتائج کے بموجب میلو دوکانوفیش کی پارٹی کو چالیس فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے حریف اول اور روس نواز  ڈیموکریٹک فرنٹ سے کافی آگے ہیں، ڈیموکریٹک فرنٹ کو صرف بیس فیصد ووٹ ہی حاصل ہوئے ہیں۔ یہ فرض کیا جارہا ہے کہ 54 سالہ میلو دوکانوفیش کو یہ پوری توقع ہے کہ وہ کرویٹی، بوسنی اور البانی اقلتیوں کے جیتے ہوئے وزیروں کے ساتھ مطلق اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل دیں گے۔ پولنگ بوتھ نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی ووٹنگ کا مشاہدہ کیا، ایک تخمینہ کے مطابق تقریبا 72 فیصد لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ سیاسی تجزیہ نگار سرديان فوكادينوفيتش نے کہا کہ:”اکثریت ثابت کرنے کے لئے ہمارے سامنے مذاکرات کی ایک طویل مدت ہے، اس لئے کہ اقلیتی پارٹیوں نے میلو دوکانوفیش کو اپنے سپورٹ دینے کے حوالے سے ابھی تک کوئی توثیق نہیں کی ہے۔ لہذا کچھ وقت تک سیاسی عدم استحکام کی صورت باقی رہے گی۔  بھاری  اکثریت سے حکومت کی تشکیل کے لئے 81 میں سے 41 سیٹوں کا حاصل کرنا ضروری ہے جس کی ابھی توثیق نہیں ہوسکی ہے، سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی اپنی 36 سیٹوں کی بدولت اکیلے کی حکومت تشکیل نہیں دے سکتی اور نہ ہی نیٹو سے ملک کے الحاق کے حوالے سے اپنی حمایت مسلط کرسکتی ہے۔

 

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>