سب نے اس پر اتفاق کیا ہے كہ "مينسک معاہده" بحران کے حل كے لئے مثالی فریم ورک رہے گا - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

سب نے اس پر اتفاق کیا ہے كہ "مينسک معاہده” بحران کے حل كے لئے مثالی فریم ورک رہے گا

جنوب مشرقی یوکرائن میں کشیدگی کی واپسی کے ایام میں "النورماندی" سربراہی کانفرنس کا انعقاد

11-2

طه عبد الواحدى: ماسكو

یوکرائن میں متنازعہ فیہ خطے ميں کشیدگی کے ساتھـ برلین میں «النورماندي چہار رکنی»  اجلاس شروع ہوا۔ جنوب مشرقی یوکرائن کے خطے میں گولہ باری کے بعد حدود کے تعین کی شق پر متحارب فورسز کے مابین باہمی اتفاق کی ناکامی پر ہر فریق دوسرے پر اس کی ذمہ داری ڈال رہا ہے۔  یوکرائنی بحران کے خصوصی دوسرے مینسک سمجھوتے پر  دو سال سے کچھ کم عرصہ گزرنے کے بعد اور جنوب مشرقی یوکرائن میں ایک بار پھر کشیدگی کی حدت میں شدت کے ساتھ «النورماندي چہار رکنی» سربراہی اجلاس جو کہ روسی کے صدر فلاديمیر پوٹن، فرانس کے فرنسوا ہولاند، یوکرائن کے پیوٹر بوروشینکو اور جرمنی کی خاتون چانسلر انجیلا میرکل کے مابین کل بدھ کی شام برلین میں منعقد ہوا، جس میں رات کو مذاکرات کا ایک نیا دور منعقد ہوا، جس کے دوران دونیٹسک اور لوگانسک یا جنوب مشرقی یوکرائن کا علاقہ جسے "ڈونباس” کہتے ہیں وہاں یوکرائنی افواج اور مسلح ملیشیا کے درمیان فائرنگ لائنوں کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دریں اثناء کل شام برلین مذاکرات میں یوکرائنی تنازعہ کو حل کرنے کیلئے مینسک معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ اسی ضمن میں، قبل ازیں یوکرائن کے صدر ویکٹر بوروشینکو نے برلن اجلاس میں اپنے بیان میں کرملین کو اشتعال دلایا اور اس کے ساتھ ساتھ روسی بینکاری کے شعبے کی جانب سے نئی پابندیوں کے بارے میں بتایا۔ چنانچہ جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل نے تمام بقیہ مسائل کو حل کرنے کیلئے برلن کے سربراہی اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ کیا کیونکہ مینسک معاہدے پر عمل درآمد ابھی تک تسلی بخش نہیں ہے اور جنگ بندی جو کہ عملا جنگ بندی نہیں ہے وہ بھی قابل اطمینان نہیں۔ اس کے باوجود میرکل کے الفاظ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ مینسک معاہدہ پر اتفاق نہیں ہے، یا اس تنازعے کے پر امن حل تک پہنچنے میں جرمن سفارت کاری پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔

ماسکو برلین اجلاس میں شرکت کرنے پر تذبذب کا شکار تھا، حتی کہ آخری لمحے تک یہ احتمال تھا کہ پوٹن اس "النورماندی چہار رکنی” سربراہی اجلاس میں شرکت سابقہ اجلاسوں کے پیش نظر مشکوک تھی۔ پرسوں یعنی ملاقات سے قبل کرملین سے سرکاری ترجمان دمیتری بیسکوف نے یقین دہانی کی تھی کہ: "روس کے صدر فلاديمیر پوٹن بدھ کے روز ایک روزہ دورہ کے بجائے صرف شام کے دورہ پر برلین جائیں گے جس میں وہ میرکل، ہولاند اور بوروشینکو سے ملاقات کریں گے”، انہوں نے وضاحت کرتے ہوے کہا کہ صدور کے معاونین کی سطح پر کئے گئے کام کی وجہ سے برلین میں اس قسم کا اجلاس منعقد ہوا۔

بيسكوف نے برلین مذاکرات کے دوران بعض معاہدوں تک پہنچنے کو خارج از امکان قرار دیا، انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ روس اب بھی مینسک معاہدے پر عملدرآمد کی ضرورت کا قائل ہے اور بنیادی طور پر یہ بات معاہدے کی سیاسی شق کے مطابق یوکرائن کی جانب سے لازمی عملدرآمد ہونے کے گرد گھومتی ہے۔ کرملین کے سرکاری ترجمان نے یوکرائنی صدر پیوٹر بوروشینکو کی جانب سے برلین ملاقات کے بارے میں غیر مناسب اسلوب کو تنقید کا نشانہ بنایا، خاص طور پر ان کی سرکاری ویب سائٹ پر کہ جس میں اس اجلاس کے بارے میں کہا گیا کہ "مینسک معاہدے کی تنفیذ پر روس کو مجبور کرنا”۔

بیسکوف نے کہا کہ "یوکرائنی صدر کی جانب سے روسی زبان میں اس طرح کے الفاظ کا استعمال صورت حال کی پیچیدگی اور مینسک معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے ان کی تیاری کو ظاہر کرتا ہے”۔  تاہم "تمام پیچیدگیوں کے باوجود روسی صدر نے مینسک معاہدے کی حفاظت اور اسکی تنفیذ جو کہ ” نورماندی گروپ ” میں کی گئی تھی اس کی خاطر ہر ممکن آمادگی کا اظہار کیا”، بیسکوف کے قول کے مطابق جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روس اب بھی یہ یقین رکھتا ہے کہ یوکرآئنی بحران کے حل کے لئے مینسک سمجھوتے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>