خامنئی نے اپنی ہدایات میں حکومت اور پارلیمنٹ نیز عدلیہ کو سن 2017ء کے انتخابات میں پارٹی بندی کی روک تھام کرنے کے حوالے سے احکام جاری کئے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

خامنئی نے اپنی ہدایات میں حکومت اور پارلیمنٹ نیز عدلیہ کو سن 2017ء کے انتخابات میں پارٹی بندی کی روک تھام کرنے کے حوالے سے احکام جاری کئے

انتخابات کے حوالے سے خامنئ کی ہدایات ان کے بڑے خدشات کی عکاسی کرتی ہے

12-1

لندن: عادل السالمی

ایران میں آنے والے مئی سن 2017ء میں طے شدہ صدارتی انتخابات کے حوالے سے کافی گہما گمہی کا سیاسی ماحول بنا ہوا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ  ایک طرف ایرانی سیاسی نظام کے دو کلیدی جماعتوں کے درمیان  اور دوسری طرف حکومت اور ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کے مابین اختلافات اور دشمنی کا دائرہ وسیع ہونے کی خبریں عام ہیں۔ ان سیاسی کشیدگی کے ماحول کے تناظر میں ایران کے مرشد اعلی علی خامنئی نے دو ہفتہ پہلے اپنے ایک بیان میں ملک کے دو بلاکوں میں تقسیم ہونے کے خطرے کے حوالے سے تنبیہ کی تھی۔ اس کے بعد حال ہی میں انھوں نے آنے والے انتخابات  کے حوالے سے احکامات اور ہدایات کا ایک پیکج جاری کیا ہے جن کی رو سے حکومت وقت، اور پارلیمنٹ، نیز عدلیہ ، فوج، امن اور سرکاری اداروں کو سیاسی اور جماعتی تقسیمات میں داخل ہونے سے منع کیا گيا ہے۔ خامنئی کے آفشیل انٹرنیٹ سائٹ پر یہ جدید ہدایات جو 18 مادوں پر مشتمل ہے، "ایرانی انتخابات کے متعلق عام حکمت عملیاں” کے عنوان سے جاری کی گئی ہیں۔  ان ہدایات کے بموجب یہ اعلان کیا گیا ہے  فوج، اور تین اہم ملکی ادارے انتظامی، عدالتی، اور قانون سازی کے محکمات کو قطعا یہ حق نہیں ہے کہ وہ سیاسی انتخابی صف بندی میں شریک ہونے کی کوشش کریں۔ یہ پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ خامنئی نے سن 1988ء میں ولایت فقیہ کا منصب سنبھالنے کے بعد، جو عرصہ تین دہائیوں پر محیط ہے، اس طرح کی ہدایات جاری کی ہوں۔ خامنئی کی آفشیل سائٹ کے اعلان کے بموجب یہ جدید ہدایات ایران کے دستور کے مادہ 110 کے مطابق جاری کی گئی ہیں جو ایران کے مرشد اعلی کی سیاسی صلاحیتوں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جدید ہدایات مرشد اعلی نے اس وقت جاری کی ہیں جب مئی سن 2017ء میں طے شدہ صدارتی انتخابات کے لئے امیدواروں کے رجسٹریشن کا وقت قریب آرہا ہے۔ مرشد اعلی کی ان ہدایات کو نافذ کرنے کے لئے ساری حکومتی مشنریوں کو آگاہ کردیا گيا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خامنئی کا حکومتی اداروں کو انتخابی امور میں شرکت سے منع کرنا حالیہ صدر حسن روحانی کی موجود پالیسیوں کے مخالف جماعتوں کے ہاتھوں ایک جدید سیاسی دباؤ کا آلہ دینے کے مترادف ہے، جو کہ پہلے سے ہی حالیہ حکومت پر یہ الزام لگارہی ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کے فائدوں کے لئے حکومت  کی صلاحیتون کا غلط فائدہ اٹھا رہی ہے۔ یہ ہدایات اس وقت جاری کی گئی ہیں جب موسم بہار میں صدارتی منصب کے لئے امیداروں کی  شناخت کے حوالے سے بحث ومباحثے پورے زور شور سے جاری ہیں، خاص طور پر خامنئی کے اس اعلان کے بعد کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نجاد اگلے صدارتی الکشن میں حصہ نہیں لیں گے، اور اس اعلان نے گويا ایرانی حکام کے درمیان طویل مدت سے چل رہی باہمی الزام تراشی کی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کیا ہے۔ بہرحال خامنئی کے اچانک ہدایات جاری کرنے کے عمل سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تہران میں آئندہ ہونے والے الیکشن کے حوالے سے گہری تشویش کا ماحول سرگرم ہے، خاص طور پر قدامت پرست جماعت سن 2013ء کی شکست کا اعادہ نہیں چاہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سن 2009ء کے صدارتی انتخابات کے واقعات -جن سے یہ لگ رہا تھا کہ آٹھ مہینے کے احتجاجی ہنگامے کے نتیجے میں ایرانی سیاسی نظام کا تختہ پلٹ جائے گا- کے بعد انتخابی موسم ایرانی نظام کے حوالے سے مرشد اعلی کے لئے گہری تشویش کا باعث بن گيا ہے۔ خامنئی کی ہدایات میں سب سے اہم نیا مضمون نمبر 16 ہے جس کی رو سے فوج، اور تین بڑے اہم حکومتی ادارے،  پارلیمنٹ، عدلیہ، اور حالیہ حکومت نیز حکومت کی وزارتیں، اور اس کے ماتحت حکومتی ادارے، انٹلی جنس سروس، نیز دوسرے سارے عام اور خاص اداروں کو جماعت بندی، انتخابی گروپ بندی نیز امیدواروں کی یک طرفہ حمایت یا بے جا جانبداری سے منع کیا گيا ہے۔ ان نئی سیاسی پالیسیوں -جن کا ملک میں اب سے سارے انتخابی مطالبات پر اطلاق ہوگا- میں یہ بھی شامل ہے کہ انتخابی مہم کے حوالے سے استعمال کی جانے والی مالی امداد کی تحقیق وتفتیش کی جائے، اور یہ دریافت کیا جائے کہ مالی امداد کے فراہمی کے ذرائع لائسنس یافتہ ہیں يا غیر لائنسس یافتہ، نیز انتخابات میں خرچ کئے جانے والے پیسوں، نیز انتخابی مہم کے خرچ، اور سیاسی بلاکوں کی چھان بین ہو اور تجاوزات کا تعاقب ہو۔ لیکن سب سے زیادہ حساس پہلو کا تعلق ان مسائل کو نہ چھیڑنے سے ہے جو قومی تفرقہ بازی، فرقہ وارانہ امتیازی سلوک کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں، اس کے علاوہ انتخابی مہموں میں رشوت دینے، دھمکیاں يا لالچ دینے جیسے اسلوب استعمال کرنے، نیز قانونی دائرے کے باہر وعد وعید سے بھی منع کیا گيا ہے۔ اسی تناظر میں انتخابات کے حوالے سے پابندیوں کی وہ فہرست بھی شامل ہے جس کی رو سے خامنئ‏ کے بموجب انتخابات میں غیر ملکی اداروں سے مالی امداد لینے یا ان کا تعاون حاصل کرنا بھی شامل ہے، جن کی تہمت کے شکار پچھلے الیکشن میں کئی امیدوار ہوچکے ہیں، جن میں سرفہرست مہدی کروبی اور میر حسین موسوی ہیں جو سن 2011ء سے قید میں ان الزامات کے پاداش میں زندگی گذار رہے ہیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>