مسلم کمیونٹی كے رہنما نے الشرق الاوسط سے كہا: تہران نے دين كو نظريے میں تبدیل کرديا - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

مسلم کمیونٹی كے رہنما نے الشرق الاوسط سے كہا: تہران نے دين كو نظريے میں تبدیل کرديا

کولمبیا کے مسلمان اپنے عقیدے پر قائم رہنے کے لیے ایرانی دست درازی کا سامنا کر رہے ہيں۔

12-2

بوغوتا: لويزا بوليدو

        اگر آپ كولمبيا كے دارالحكومت بوغوتا كى سڑکوں پر اور بالخصوص اس کے شمال کی جانب اس خطے سے ہر گزرنے والے پر یہ واضح ہوگا خواہ پيدل ہو يا اپنى گاڑى ميں تو راستے میں دلكش عمارتوں كے مينار راہگيروں كى توجہ اپنى جانب مبذول كراتے ہيں، جبكہ بوغوتا كے محلے ميں ايک عمارت كے سامنے حركت خود بخود رک جاتى ہے اس کی سادگى كے باوجود شہریوں کو اس کی جانب انتہائى دلفريب الفت کا احساس ہوتا ہے۔ اور وه ہے "مسجد ابو بكر” جسے چار سال قبل جنوبى امريكہ ميں واقع اسى ملک كے رہائشى مسلمانوں نے اپنے خرچے پر تعمير كيا. كولمبيا ميں تاريخى اعتبار سے رسمى طور پر سنى مسلمانوں كا وجود 1890ء سے ہے، اور بالتحديد اسى وقت يہاں شہر كے مركزى علاقے ميں نماز كيلئے مركز بنايا گيا، يہاں تک كہ لاطينى براعظم ميں ہسپانوى استعمار كے دخول کے ساتھ اندلسى تہذيب كى باقيات ہسپانوى مملكت كے ہمراه يہاں آئيں يا ہسپانوى بحرى جہازوں كے ساتھ افريقہ سے مسلمان يہاں آئے اس وجہ سے ان كى كثرت ہو گئى.

دوسرى جانب كولمبيا ميں مسلم كميونٹى كے رہنما شيخ احمد طايل نے وضاحت کی کہ اگرچہ وہ شام ميں پیدا ہوئے لیکن 1992ء ميں كام كى تلاش ميں كولمبيا آئے اور اس علاقے كى خوبصورتى ان كے دل ميں گهر كر گئى اور اسكے بعد انهوں نے اپنے ملک واپس جانے كا كبهى نہيں سوچا كيونكہ وه اپنے آپكو اپنے ملک ہى ميں تصور كرتے ہيں. سن 2000ء ميں انهيں كولمبيا كى شہريت مل گئى. طايل نے كولمبيا ميں مسلمانوں كے حالات كے بارے ميں بات كرتے ہوئے الشرق الأوسط كو بتايا كہ يہ انكا نيا وطن شمار ہوتا ہے اور كولمبين معاشرے كے ديگر افراد كى طرح باہمى بهائى چارے سے وه بهى اسكا حصہ ہيں اور وه يہ محسوس كرتے ہيں كہ حقيقت ميں وه بهى ديگر افراد كى طرح كولمبين ہى ہيں. طايل نے اپنے يقين کا اظہاركرتے ہوے كہا كہ کولمبیا كے لوگ تیزی سے اسلام کے بارے ميں واقفيت حاصل كر رہے ہيں. اعداد وشمار كے مطابق كولمبيا ميں تقريبا 40 ہزار سنى مسلمان ہيں. طايل نے وضاحت كرتے ہوے كہا كہ مسلمانوں كى اتنى بڑى تعداد کولمبیا ميں ہى محدود نہيں بلكہ یہ لاطینی امریکہ كے دیگر اہم ممالک تک پھیلى ہوئى ہے- مثال کے طور پر برازيل، وينزويلا، إكواڈور، مكسيکو، ارجنٹائن اور چيلى كے ممالك شامل ہيں جہاں مسلمانوں كى تعداد لاكهوں ميں ہے- دلچسپ بات يہ ہے كہ ایسا نہیں کہ مسلمانوں کی تعداد ان ممالک کے اندرہى اندر مسلسل بڑھتی جا رہى ہو. طايل نے واشنگٹن میں قائم، «پیو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ» کی طرف سے شائع كرده ایک مطالعاتى رپورٹ کی طرف اشاره كرتے ہوے "الشرق الأوسط” کو بتایا كہ سن 2050ء میں مسلمانوں کی تعداد دنیا بھر كے دیگر مذاہب کے ماننے والوں كى بہ نسبت سب سے زياده ہوگى. طايل نے مزيد كہا كہ "ديگر تمام مذاہب دينِ اسلام كے ساتھ ره رہے ہيں اور دوسرى تمام قوميں مسلمانوں كى بهائى بند ہيں.

قابل غور بات يہ ہے كہ کولمبیا میں مسلم سوسائٹی کو مشرق وسطی کے كسى ملک کی طرف سے کوئی مالی امداد نہیں ملتى، سب سے بہترین يہ كہ کولمبیا کے مسلم سماج کے فرزند عطیات دينے میں بہت سخاوت كا اظہار کرتے ہيں ليكن طايل نے بهرپور اعتماد سے كہا كہ اگر وه كسى سے مدد مانگيں تو وه انهيں آسانى سے مل سكتى ہے.

دوسرى جانب كولمبیا كے مسلمان بنیادی طور پر تجارت سے منسلک ہيں اور وه کامیاب تاجروں کی حیثیت سے شہرت ركهتے ہيں. طايل نے مزيد وضاہت كى كہ جب مسلمانوں كى اكثريت رياست ہائے متحده امریکہ اور يورپ كى جانب تعليم كى غرض سے سفر كرتى ہے، وہيں خاص طور سے كولمبيا اور عمومى طور پر لاطينى امريكہ آنے والے مسلمان تجارت كے شعبہ ميں كوشش كرتے ہيں.

طايل نے مزيد كہا كہ آپ يہاں لاطينى امريكہ ميں يہ محسوس كرتے ہيں كہ گويا آپ كسى اور ہى زمانے ميں ہيں، كيونكہ آپ کو یہاں كسى قسم كى مشکلات کا سامنا نہیں ہے جيسا کہ دوسرے ممالک میں، یا دیگر براعظموں میں مشکلات پائى جاتي ہيں. سچ تو یہ ہے كہ کولمبیا کے دوستانہ ماحول کی مثال دنیا میں كسى اور جگہ نہیں مل سکتی-

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>